پاکستان ٹیکسٹائل صنعت نے مزدوروں کے حقوق اور عالمی معیار پر عملدرآمد سے متعلق الزامات مسترد کر دیے

منگل 28 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی برآمدی ٹیکسٹائل صنعت نے برطانوی ادارے لیبل بِہائنڈ لیبر کی رپورٹ میں عائد کیے گئے مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی، جبری اوور ٹائم اور ناکام کمپلائنس سسٹم سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی ٹیکسٹائل شعبہ عالمی لیبر، ماحولیاتی اور گورننس معیارات کے مطابق شفافیت، پائیداری اور مزدوروں کی فلاح کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں:چین کا پاکستان کی ٹیکسٹائل و لیدر صنعتوں کی اپ گریڈیشن میں تعاون کا اعلان

دستاویز کے مطابق پاکستان کی بڑی ٹیکسٹائل برآمدی کمپنیاں بین الاقوامی ادارہ محنت (ILO)، اقوام متحدہ کے گلوبل کمپیکٹ اور جی ایس پی پلس (GSP+) کے تقاضوں کے مطابق لیبر کمپلائنس اور انسانی حقوق پر عمل درآمد کر رہی ہیں۔

آئی ایل او کی بیٹر ورک پاکستان رپورٹ (2022-2025) کے مطابق 2025 میں صرف 4.6 فیصد برآمدی فیکٹریاں کم از کم اجرت اور 2.3 فیصد اوور ٹائم ادائیگی کے معاملے میں عدم تعمیل کی مرتکب پائی گئیں، جو انفرادی نوعیت کے معاملات ہیں، نہ کہ پورے شعبے کا مسئلہ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرلوپ، گل احمد، سورٹی، نشاط ملز، لبرٹی ملز، فیروز 1888، کریسنٹ بہومن، کمال لمیٹڈ، سیفائر، مسعود ٹیکسٹائل اور دیگر معروف پاکستانی کمپنیاں خواتین کی شمولیت، کارکنوں کی فلاح، صحت، تعلیم، محفوظ ماحول، مساوی مواقع، جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کے خاتمے سمیت متعدد بین الاقوامی معیارات پر عمل پیرا ہیں۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟

دستاویز کے مطابق عالمی خریداروں کا اعتماد بھی بڑھ رہا ہے اور سروے میں شامل 33 فیصد بین الاقوامی خریداروں نے آئندہ 2 سے 3 برس میں پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی خریداری بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بے بی پاؤڈر سے کینسر : جانسن اینڈ جانسن نے  76 ہزار مقدمات سے جان چھڑانے کے لیے  5.5 ارب ڈالر  ادا کرنے کا فیصلہ کرلیا

آزاد کشمیر میں انتخابات کا پہلا مرحلہ پرامن اور شفاف رہا، چیف الیکشن کمشنر

آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ شفاف رہا، مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل، عطا اللہ تارڑ

سپریم کورٹ کا پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر مکمل طور پر فعال، سائلین کو 23 ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی

مالی سال 26-2025 میں وفاقی ترقیاتی پروگرام پر ریکارڈ خرچ، ریلوے اور آبی وسائل کے شعبے سرفہرست

ویڈیو

جب تک ن لیگ کی حکومت قائم ہے پیپلزپارٹی اتحاد کا حصہ رہے گی، حسن مرتضیٰ

آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ: ن لیگ نے 13 میں سے 9 نشستیں جیت کر برتری حاصل کرلی، پیپلز پارٹی 4 پر کامیاب

سائیکل ایمبولینس: ہنگامی ضرورت یا ترقی کی رفتار پر سوال؟

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی