پاکستان کی برآمدی ٹیکسٹائل صنعت نے برطانوی ادارے لیبل بِہائنڈ لیبر کی رپورٹ میں عائد کیے گئے مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی، جبری اوور ٹائم اور ناکام کمپلائنس سسٹم سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی ٹیکسٹائل شعبہ عالمی لیبر، ماحولیاتی اور گورننس معیارات کے مطابق شفافیت، پائیداری اور مزدوروں کی فلاح کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں:چین کا پاکستان کی ٹیکسٹائل و لیدر صنعتوں کی اپ گریڈیشن میں تعاون کا اعلان
دستاویز کے مطابق پاکستان کی بڑی ٹیکسٹائل برآمدی کمپنیاں بین الاقوامی ادارہ محنت (ILO)، اقوام متحدہ کے گلوبل کمپیکٹ اور جی ایس پی پلس (GSP+) کے تقاضوں کے مطابق لیبر کمپلائنس اور انسانی حقوق پر عمل درآمد کر رہی ہیں۔
آئی ایل او کی بیٹر ورک پاکستان رپورٹ (2022-2025) کے مطابق 2025 میں صرف 4.6 فیصد برآمدی فیکٹریاں کم از کم اجرت اور 2.3 فیصد اوور ٹائم ادائیگی کے معاملے میں عدم تعمیل کی مرتکب پائی گئیں، جو انفرادی نوعیت کے معاملات ہیں، نہ کہ پورے شعبے کا مسئلہ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرلوپ، گل احمد، سورٹی، نشاط ملز، لبرٹی ملز، فیروز 1888، کریسنٹ بہومن، کمال لمیٹڈ، سیفائر، مسعود ٹیکسٹائل اور دیگر معروف پاکستانی کمپنیاں خواتین کی شمولیت، کارکنوں کی فلاح، صحت، تعلیم، محفوظ ماحول، مساوی مواقع، جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کے خاتمے سمیت متعدد بین الاقوامی معیارات پر عمل پیرا ہیں۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟
دستاویز کے مطابق عالمی خریداروں کا اعتماد بھی بڑھ رہا ہے اور سروے میں شامل 33 فیصد بین الاقوامی خریداروں نے آئندہ 2 سے 3 برس میں پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی خریداری بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔














