جنہیں راستے میں خبر ہوئی، یہ راستہ کوئی اور ہے

بدھ 29 جولائی 2026
author image

ساجد علی ثمر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی جین زی نظریاتی سیاست کا شعور بھی رکھتی ہے اور اس نے عوامی جدوجہد میں حصہ بھی لیا ہے۔ وہ سماجی طبقات کی تقسیم پر کُڑھتی بھی ہے اور معاشی مسائل کے لیے شاکی بھی ہے، وطنِ عزیز کی خاطر وہ جان ہتھیلی پر لیے پھرتی ہے اور جان کی امان بھی مانگتی ہے، المیہ لیکن دوسرا ہے۔

پاکستان کی جین زی خود سے کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں بنا سکی، جو سیاسی بصیرت کے ساتھ عوامی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہوتا، بلکہ اس نے کبھی مذہبی خیموں میں تکیہ لگائے قائدین کے ہاتھ پر بیعت کی تو کبھی قدیم اور معروف سیاسی جماعتوں کی بے رحم سیاست کا آلۂ کار بنی۔ اس کی نیت اور جذبے پر شک نہیں کیا جا سکتا، ہاں البتہ اس نے اپنی منزل کے حصول کے لیے جن راستوں کا انتخاب کیا وہ غیر واضح اور پتھریلے تھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے مقاصد واضح تھے اور اس قدر شہرت و مقبولیت ملنے کے باوجود بھی وہ اپنے مقاصد سے ایک انچ آگے نہیں بڑھی۔ جب مقاصد پورے ہو گئے تو اس نے گھر کی راہ لی۔ ہمارے ہاں لیکن احتجاج کبھی اس طریقے سے نہیں ہوتے۔

ہم احتجاج میں شدت کے قائل ہیں یعنی جب تک جلاؤ گھیراؤ نہیں ہو گا یا پارلیمنٹ تک نہیں پہنچیں گے تب تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ دیکھا جائے تو کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج بھوک ہڑتال سے شروع ہوا اور انتہائی منظم و مربوط جدوجہد پر منتج ہوا۔ نہ ٹائر جلائے گئے کہ فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا، نہ ٹریفک جام کرنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی دکانوں اور کاروباری مراکز کو لوٹا گیا بلکہ ان کے پانی اور کھانے کا بندوبست بھی باہر سے ہوتا رہا۔

پاکستان کی جین زی پر تنقید و طنز کے تیر چلانے سے پہلے یہ تو دیکھ لیں کہ ہم نے اس کے حصے میں آسودگی کا کون سا سامان چھوڑا ہے؟ معیاری تعلیم دی؟ نہیں دی! ریسرچ کے لیے فنڈز اور بہترین تربیتی ماحول فراہم کیا؟ نہیں کیا! سیاسی و نظریاتی شعور کی مضبوط بنیاد فراہم کی؟ نہیں کی! بہتر روزگار دیا؟ نہیں دیا! صحت کی بنیادی ضروریات فراہم کیں؟ نہیں کیں! تو پھر کس بات کا گلہ ہے؟

یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر احتجاج کی آڑ میں ریاست سے ٹکر لی جائے یا پھر ریاست کی مقرر کی ہوئی حدود کو پھلانگا جائے، ہاں البتہ یہ ضروری ہے کہ آپ کی آواز میں، آپ کی پکار میں اور آپ کے انکار میں ایسا جذبہ ہو، ایسا یقین ہو اور ایسا اخلاص ہو کہ ایوانوں پر لرزہ طاری کر سکے اور ایسا ہی کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے کیا ہے۔

ہماری جین زی کو مختلف سیاسی، مذہبی اور قومیت پسند پارٹیاں گود لے لیتی ہیں، اس لیے وہ کبھی کوئی آزادانہ تحریک نہیں چلا سکی۔ یاد رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے طلبا نے اپنی احتجاجی تحریک میں انتہائی بصیرت سے مذہبی، لسانی اور علاقائی مداخلت کو ناکام بنایا لیکن یہی غلطی ہماری جین زی سے ہر وقت سرزد ہوتی رہی ہے۔

کیا ایسا ممکن نہیں کہ ہماری جین زی فقط تعلیم اور صحت کے مسائل پر ہی ایک تحریک شروع کرے اور عوام کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کرے، اس پر کس کو اعتراض ہو سکتا ہے؟ اور ظاہر ہے ریاست کو بھی اتنی گنجائش تو دینی چاہیے لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ان کی یہ تحریک ہائی جیک نہیں ہو گی؟ بس یہی ایک نکتہ ہے اگر اس پر غور کریں تو سارے عقدے کھل سکتے ہیں۔

پاکستان کے فرسودہ سیاسی نظام یا سیاسی جماعتوں کے پاس عوام کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ انہیں عوام کی پرواہ بھی نہیں ہے، انہوں نے ساری زندگی کرپشن کی ہے اور اگر موقع ملتا رہا تو پھر بھی کرتے رہیں گے۔ ایسے میں ہماری جین زی کا ان کی چھتری میں سایہ ڈھونڈنا نہ صرف حماقت ہے بلکہ وقت کا ضیاع بھی ہے۔

پاکستان میں نوجوان نسل اپنے مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے اور اسے ریاستی اداروں سے تصادم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن اسے کوئی ایسا رہنما نہیں ملتا جو ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ایسے خطوط پر اس کی رہنمائی کر سکے جو فقط بنیادی انسانی حقوق کی گلی کو جاتے ہوں نہ کہ ایوانوں کو۔ اور نہ ہی ایسا کوئی پلیٹ فارم موجود ہے۔ وقتی طور پر وہ کسی راہ چلتے ذاتی مفادات کے حصول کیلیے کوشاں سیاسی قافلے میں انتہائی جوش و جذبے سے شامل تو ہو جاتی ہے لیکن جب منزل پہلے سے بھی دور ہوتی جاتی ہے تو پھر واپسی کی راہ لیتی ہے۔ اس کی بے بسی کی تصویر جناب سلیم کوثر صاحب نے ان الفاظ میں کھینچی ہے:

تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی، مجھے دوستوں کا پتا نہیں

تری داستاں کوئی اور تھی، میرا واقعہ کوئی اور ہے

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں، دیکھنا انہیں غور سے

جنہیں راستے میں خبر ہوئی، یہ راستہ کوئی اور ہے

جو میری ریاضتِ نیم شب کو، سلیمؔ صبح نہ مل سکی

تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل قومی ہاکی ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی، عماد شکیل بٹ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا

بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی

دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

ویڈیو

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی