امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز

منگل 28 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے اچھی بات چیت جاری ہے جبکہ پاکستان اور قطر نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ آگے بڑھانے کے لیے سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کے پاس ایک ہزار سال کے لیے ایندھن موجود، چین کے پاس نہیں: ٹرمپ

فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ تہران بظاہر مذاکرات سے انکار کرتا ہے حالانکہ بات چیت جاری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بعض اوقات دونوں ممالک کے درمیان بہت اچھی گفتگو جاری ہوتی ہے لیکن ایران کی جانب سے باہر آ کر کہا جاتا ہے کہ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے یا جوہری پروگرام پر بات نہیں ہوئی، جبکہ حقیقت میں یہی سب سے اہم موضوع ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اگر مذاکرات کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔

ٹرمپ کا ایران کی جوہری تنصیبات پر نظر رکھنے کا دعویٰ

امریکی صدر نے ایران کے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے ’پک ایکس ماؤنٹین‘ جوہری مقام سمیت دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دہرائی۔

مزید پڑھیے: ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے انہیں ایران کی جانب سے جوہری تنصیبات مضبوط بنانے کے بارے میں آگاہ کیا، تو ٹرمپ نے کہا کہ انہیں صرف اسرائیلی معلومات پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس جدید ترین نگرانی کے نظام موجود ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ایران میں کیا ہو رہا ہے۔

’ہماری پوزیشن بہت مضبوط ہے‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت امریکا ایران کے معاملے پر بہت مضبوط پوزیشن میں ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا اگر چاہے تو ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو مختصر وقت میں تباہ کر سکتا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ایسے اقدامات سے بچنا چاہتے ہیں اگر سفارت کاری کے ذریعے مسئلہ حل ہو سکتا ہو۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے ایران کے خلاف حملے روک دیے ہیں، مائیک والٹز کی تصدیق

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ ہو سکتا ہے تو وہ مذاکرات کو موقع دینا چاہتے ہیں۔

ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کی امید

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور معاہدہ ہونے کا امکان موجود ہے۔

ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی حکام نے امریکا سے کہا ہے کہ مذاکرات جاری رہنے کے دوران فوجی کارروائی نہ کی جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوج کو شدید نقصان پہنچا ہے اور تہران دوبارہ مذاکرات کی طرف آنا چاہتا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق ایران نے ثالثوں کے ذریعے اور براہ راست رابطوں کے ذریعے امریکا سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان حملوں میں وقفہ

امریکا اور ایران نے مسلسل چوتھے روز بھی ایک دوسرے کے خلاف نئی کارروائیاں نہیں کیں جس سے خلیجی خطے میں کشیدگی میں کمی کے آثار پیدا ہوئے ہیں۔

ایران نے کہا کہ اس نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں روک دی ہیں جبکہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات کے لیے کچھ وقت دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: چین اور روس نے ایران کو ہتھیار نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

یہ وقفہ کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد آیا جس نے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خلیجی ممالک اور اہم سمندری راستوں کو بھی متاثر کیا۔

پاکستان اور قطر کی ثالثی کا کردار

پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بحال کرنے کے لیے سفارتی رابطے بڑھا دیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک نے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کیا ہے تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔

پاکستان اور قطر نے تجویز دی ہے کہ امریکا اور ایران ابتدائی قدم کے طور پر 9 جولائی سے پہلے والی پوزیشن پر واپس آئیں تاکہ مذاکراتی عمل بحال ہو سکے۔

دونوں ممالک نے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا فریم ورک

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا فریم ورک سامنے آیا تھا۔

یہ معاہدہ جون میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد جنگ بندی اور مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔

اس فریم ورک کے تحت امریکا اور ایران نے فوجی کارروائیاں روکنے، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور مستقل جنگ بندی سے متعلق جامع معاہدے پر مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ایران کے ساتھ مذاکرات ہر سطح پر جاری ہیں، امریکی سفیر

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات ہر سطح پر جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت کے اندر بھی اختلافات موجود ہیں، تاہم امریکا سفارتی راستے کو موقع دے رہا ہے۔

مائیک والٹز نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکا فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے لیکن صدر ٹرمپ مذاکرات کو وقت دے رہے ہیں۔

ٹرمپ نے فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کی جانب سے ایران کے خلاف مزید حملوں کے منصوبے کے باوجود کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے مسلسل 13 دن تک فوجی کارروائی کے منصوبوں کی منظوری دی تاہم بعد میں مزید حملوں کو روک دیا۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ تنازع بڑھنے سے خطے میں وسیع جنگ چھڑ سکتی ہے جبکہ امریکی دفاعی وسائل خصوصاً پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا امن پر زور

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیے: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک دیانت دار اور مخلص ثالث کے طور پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے کام کرتا رہے گا۔

وزیراعظم نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار کریں۔

پاکستان کی سفارتی کوششیں

پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکراتی عمل میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستان کی کوششوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی ہوئے۔

بعد ازاں پاکستان اور قطر کی معاونت سے سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں بھی مذاکرات ہوئے جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ سفارتی پیش رفت سے امید پیدا ہوئی ہے کہ امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں تاہم فریقین کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اٹارنی جنرل منصور اعوان کے گھر پولیس کا چھاپہ، ایس ایچ او سمیت 11 اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

راولاکوٹ احتجاج میں فتنہ الخوارج کے لوگ بھی شامل، شرپسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہوگی، حکومت آزاد کشمیر

ناصر اقبال نے جان شیر خان چیلنجر اسکواش ٹائٹل جیت لیا

محسن نقوی کی دوحہ میں قطری وزیر داخلہ سے اہم ملاقات، سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

پی سی بی کا ڈومیسٹک سیزن 27-2026 کے لیے کرکٹرز کی فٹنس پالیسی کا اعلان

ویڈیو

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی