نجکاری کمیشن بورڈ نے 3 سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ان کی تنظیم نو کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
نجکاری کمیشن بورڈ نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے لیے تنظیم نو اور انتظامی منصوبوں کو کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کو منظوری کے لیے بھیجنے کی سفارش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیرخزانہ کا جینکو، ڈسکوز اور ایئر پورٹس کی نجکاری کا اعلان
یہ فیصلہ وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد علی کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا۔
نجکاری کمیشن کے مطابق تینوں کمپنیوں کی تنظیم نو کے منصوبے 31 مارچ 2026 تک کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں۔
منصوبے کے تحت حکومت کی ملکیت میں ایک خصوصی مقصدی ادارہ (ایس پی وی) قائم کیا جائے گا، جو تینوں بجلی کمپنیوں کے منتخب اثاثوں اور واجبات کو الگ کرے گا، تاکہ نجکاری کے لیے ایک تجارتی طور پر موزوں ڈھانچہ تیار کیا جا سکے اور نجی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جاسکے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق بجلی کمپنیوں کی نجکاری کے عمل میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے نمایاں دلچسپی سامنے آئی ہے۔
اظہارِ دلچسپی (ای او آئی) جمع کرانے کی آخری تاریخیں فیسکو کے لیے 7 اگست، گیپکو کے لیے 21 اگست اور آئیسکو کے لیے 7 ستمبر مقرر کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کی ڈسکوز نے ہمیں ڈسکو کروا دیا
اجلاس میں اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کے عمل کی نگرانی کے لیے دو ٹرانزیکشن کمیٹیاں بھی قائم کی گئیں۔
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کو مالیاتی مشیر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کے لیے مالیاتی مشیروں کی تقرری کا عمل جاری ہے۔
نجکاری بورڈ نے مالی سال 2024-25 سے 2026-27 کے دوران مکمل کیے گئے نجکاری معاملات کے خصوصی آڈٹ کے لیے آر ایس ایم اویس حیدر لیاقت نعمان، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی تقرری کی بھی منظوری دی۔
بورڈ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کا نجکاری پروگرام شفاف، مسابقتی اور پیشہ ورانہ انداز میں مکمل کیا جائے گا تاکہ بجلی کے شعبے کی کارکردگی بہتر ہو، نجی سرمایہ کاری بڑھے اور حکومت کو زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل ہو۔













