کینیا میں 14 لاکھ 30 ہزار سال پرانے قدموں کے نشانات سے انسانی نسل کے بارے میں نئی معلومات سامنے آگئیں

منگل 28 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کینیا میں دریافت ہونے والے تقریباً 14 لاکھ 30 ہزار سال پرانے قدموں کے نشانات نے انسانی ارتقا سے تعلق رکھنے والی معدوم نسل پیرانتھروپس بوائیزی کے جسمانی خدوخال، طرزِ زندگی اور سماجی رویوں کے بارے میں نئی معلومات فراہم کی ہیں۔

ماہرین نے شمالی کینیا کی جھیل ترکانا کے مشرقی کنارے پر کیچڑ میں محفوظ 21 قدموں کے نشانات دریافت کیے ہیں، جن کے بارے میں خیال ہے کہ یہ آٹھ افراد نے چھوڑے تھے۔ تحقیق کے مطابق یہ افراد غالباً بالغ مرد تھے، جو ایک ساتھ سفر کررہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ملین سال پرانی موسمی تبدیلی اور انسانی ارتقا کے درمیان اہم تعلق دریافت

سائنس دانوں نے قدموں کی ساخت اور چلنے کے انداز کا جائزہ لینے کے بعد انہیں پیرانتھروپس بوائیزی سے منسوب کیا، جو انسانی ارتقائی سلسلے کی ایک معدوم نسل تھی۔

تحقیق کے مرکزی مصنف اور ماہرِ بشریات کیون ہٹالا کے مطابق یہ دریافت اس نسل کے جسمانی ڈھانچے، چلنے کے انداز، باہمی تعلقات اور ماحول سے ان کے تعامل کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ہے۔

ماہرین کے مطابق پیرانتھروپس بوائیزی اپنی مضبوط کھوپڑی، بڑے جبڑوں اور انسان کے مقابلے میں تقریباً تین گنا بڑے داڑھ کے دانتوں کے لیے مشہور تھی۔ اس کی خوراک میں سخت گھاس، دلدلی پودے، گریاں اور بیج شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں:100 ارب سپر کمپیوٹرز کے برابر انسانی ذہن کے ارتقا، استعمال اور مغالطوں کا احوال

قدموں کے نشانات سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس نسل کے بعض افراد کا قد چھ فٹ (1.83 میٹر) تک اور وزن تقریباً 75 کلوگرام تھا، جو ماضی کے اندازوں سے زیادہ ہے اور انہیں ہومو ایریکٹس کے برابر جسامت کا ظاہر کرتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ آٹھوں افراد جھیل کے کنارے نسبتاً گہرے پانی کی طرف جا رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق ممکن ہے وہ خوراک یا پانی کی تلاش میں ہوں، علاقے کی نگرانی کر رہے ہوں یا پھر ایک گروہ کی صورت میں سفر کر رہے ہوں۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ ارتقا نیل روچ کے مطابق ایک امکان یہ بھی ہے کہ یہ صرف نر افراد کا گروہ تھا، جیسا کہ آج گوریلوں میں دیکھا جاتا ہے، جہاں غالب نر دوسرے نر کو ماداؤں سے دور رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصر میں 5 ہزار سال پرانے مقبرے دریافت، اہرام کی تعمیراتی تاریخ اور ارتقاء پر نئی بحث کا آغاز

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پیرانتھروپس بوائیزی تقریباً 23 لاکھ سال پہلے نمودار ہوئی اور 12 لاکھ سال پہلے معدوم ہو گئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور خوراک کی کمی اس کے خاتمے کی بڑی وجوہات تھیں، جبکہ ہومو ایریکٹس کے ساتھ وسائل پر مقابلے نے بھی اس کے معدوم ہونے میں کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: اسلام آباد تینوں ممالک کے پرچموں اور برقی قمقموں سے جگمگا اٹھا

حکومت کا بجلی کی 3 بڑی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ

جماعت اسلامی نے 9 اگست کا احتجاج مؤخر کردیا، پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں کی نئی تاریخ کا اعلان

اوپن اے آئی کے نئے ماڈل ’ایسٹرا‘ میں خطرناک سیکیورٹی خدشات کا انکشاف، ڈیولپنگ کام عارضی معطل

میر رضا علی کیس: پولیس تفتیش کے بجائے خاندان کو ہراساں کررہی ہے، وکیل نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

ویڈیو

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف مدینہ منورہ سے روانہ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد مسجد نبویؐ میں حاضری

پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کے اعلان پر خیبر پختونخوا کے اراکین کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر