مصر میں 5 ہزار سال پرانے مقبرے دریافت، اہرام کی تعمیراتی تاریخ اور ارتقاء پر نئی بحث کا آغاز

جمعہ 17 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصر کی وزارتِ سیاحت و نوادرات کے زیرِ نگرانی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ٹیم نے صوبہ منیا کے تاریخی مقام جبل الطیر میں کھدائی کے دوران 5 ہزار سال پرانے 2 منفرد مقبرے دریافت کیے ہیں۔ اس دریافت کی تفصیلات سامنے آتے ہی عالمی میڈیا میں غیر معمولی جوش و جذبہ دیکھا جا رہا ہے، اور اسے اہرامِ مصر کی تعمیراتی ابتدا کو سمجھنے کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ پُرجوش میڈیا کوریج میں ایک اہم سائنسی پہلو کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ دریافت اہرامِ مصر کی تعمیر کے پسِ منظر کو سمجھنے میں معاون ہو سکتی ہے، لیکن معروف برطانوی ماہرِ مصر قدیمات رولینڈ اینمارچ کے مطابق، یہ دریافت کوئی غیر متوقع یا حیران کن امر نہیں ہے، بلکہ یہ اس ارتقائی عمل کا حصہ ہے جس سے ماہرین پہلے ہی واقف تھے۔

خلائی مخلوق کے نظریات کی حقیقت

اہرامِ مصر انسانی تاریخ کا وہ عظیم اور حیرت انگیز شاہکار ہیں جو انسانی تہذیب کے بالکل ابتدائی دور میں تعمیر کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ آج بھی حیران ہیں کہ ہزاروں سال قبل بغیر کسی جدید مشینری کے زمین پر اتنی بڑی عمارتیں کیسے کھڑی کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے بھاری مشینری کے بغیر اہرام مصر کیسے تعمیر ہوئے، معمہ حل ہوگیا

اسی حیرت کے باعث ماضی میں کچھ نظریات حقیقت سے بہت دور چلے گئے۔ مثال کے طور پر 1968 میں سوئٹزرلینڈ کے مصنف ایرک وون ڈینکن نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب Chariots of the Godمیں یہ دعویٰ کر دیا تھا کہ اہرامِ مصر انسانوں نے نہیں بلکہ کسی ’خلائی مخلوق (Aliens) نے تعمیر کیے تھے۔ تاہم، جبل الطیر کی حالیہ دریافت ان تمام مفروضوں کو رد کرتے ہوئے یہ ثابت کرتی ہے کہ اہرام اچانک وجود میں نہیں آئے، بلکہ یہ صدیوں پر محیط انسانی مہارت اور تعمیراتی ارتقاء کا نتیجہ تھے۔

‘مصطبہ’ سے اہرام تک کا سفر

رولینڈ اینمارچ کے مطابق، جب مصر پہلی بار تقریباً 3100 قبل مسیح میں ایک متحدہ ملک بنا، تو شاہی خاندان کے افراد کو بڑے اور خوبصورت مقبروں میں دفن کیا جاتا تھا، لیکن ان مقبروں کے اوپر کوئی دیوہیکل ڈھانچہ نہیں ہوتا تھا۔

عربی زبان میں مٹی کی اینٹوں سے بنی مستطیل شکل کی ان قبروں کو ’مصطبہ‘ (جس کا مطلب بینچ ہے) کہا جاتا ہے، جن کی چھت ہموار اور دیواریں ڈھلوان ہوتی تھیں۔ سقارہ اور دیگر مقامات پر ہونے والی کھدائیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی دور کے بااثر لوگ ایسے ہی مقبروں میں دفن کیے جاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے اہرام مصر کا ایک اور پوشیدہ راز دریافت

اہرامِ مصر کی شکل اختیار کرنے کا یہ سفر تقریباً چند نسلوں کے اندر، یعنی 2700 سے 2600 قبل مسیح کے درمیان تیزی سے طے ہوا۔ اس ارتقاء کی سب سے پہلی اور مضبوط کڑی قاہرہ کے جنوب میں واقع ‘سقارہ’ کا سیڑھی نما اہرام ہے، جسے تیسرے شاہی خاندان کے بانی فرعون جوسر (Djoser) نے تقریباً 2670 سے 2650 قبل مسیح کے درمیان بنوایا تھا۔

Why the mystery of Egypt’s pyramids still refuses to be solved

تعمیراتی ٹیکنالوجی کا پہلا انقلاب

فرعون جوسر اور اس کے معمار نے ایک انقلابی فیصلہ کرتے ہوئے مقبرے کی تعمیر کے لیے مٹی کی اینٹوں کے بجائے پتھر کا استعمال شروع کیا۔ انہوں نے پہلے ایک روایتی مصطبہ (مستطیل مقبرہ) بنایا، پھر اس کے نقشے میں بار بار تبدیلیاں کرتے ہوئے اس کے اوپر مزید چھوٹے مصطبے تعمیر کیے۔ اس طرح مٹی کی اینٹوں کے بجائے مکمل طور پر پتھر سے بنا ہوا دنیا کا پہلا ’سیڑھی نما اہرام‘ وجود میں آیا۔

اس ارتقاء کا آخری مرحلہ تقریباً 2610 قبل مسیح میں فرعون سنیفرو (Sneferu) کے دور میں طے ہوا۔ سنیفرو نے جو اہرام بنوایا، وہ بھی شروع میں جوسر کے اہرام کی طرح سیڑھی نما ہی تھا، لیکن بعد میں ان سیڑھیوں کو چھپانے کے لیے ان پر چونے کے پتھر (Limestone) کی ایک ہموار تہہ چڑھا دی گئی۔ یوں دنیا کے پہلے ہموار دیواروں والے اہرام کا آغاز ہوا، جس کی سب سے بہترین شکل آج ہمیں جیزہ کے عظیم اہراموں کی صورت میں نظر آتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: اسلام آباد تینوں ممالک کے پرچموں اور برقی قمقموں سے جگمگا اٹھا

حکومت کا بجلی کی 3 بڑی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ

جماعت اسلامی نے 9 اگست کا احتجاج مؤخر کردیا، پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں کی نئی تاریخ کا اعلان

اوپن اے آئی کے نئے ماڈل ’ایسٹرا‘ میں خطرناک سیکیورٹی خدشات کا انکشاف، ڈیولپنگ کام عارضی معطل

میر رضا علی کیس: پولیس تفتیش کے بجائے خاندان کو ہراساں کررہی ہے، وکیل نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

ویڈیو

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف مدینہ منورہ سے روانہ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد مسجد نبویؐ میں حاضری

پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کے اعلان پر خیبر پختونخوا کے اراکین کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر