پاکستان میں گزشتہ 5 برسوں کے دوران سولر پینلز کی درآمدات میں ہونے والے غیر معمولی اضافے نے ملک کے توانائی کے شعبے کا نقشہ بدلنا شروع کر دیا ہے اور ایک خاموش مگر تاریخی انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کی نئی سولر پالیسی، کیا اب پاکستان میں سولر پینل تیار ہوں گے؟
مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق اس عرصے میں پاکستان نے تقریبا 50 گیگاواٹ سے زائد پیداواری صلاحیت کے حامل سولر پینلز درآمد کیے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 18 ارب امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے۔ یہ صلاحیت پاکستان کے قومی گرڈ کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی استعداد کے قریب پہنچ چکی ہے جس سے ملک کے توانائی کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی رونما ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 2024 میں پاکستان نے ریکارڈ 17 گیگا واٹ سولر پینلز امپورٹ کیے جس کا مطلب یہ ہے کہ لاکھوں گھرانوں اور فیکٹریوں کی چھتوں پر اب سورج سے بجلی پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستان میں سولر پینلز کی درآمدات میں غیر معمولی اضافے کی وجہ کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق اس تیز رفتار تبدیلی کے پیچھے کئی مقامی اور عالمی عوامل ہیں۔
سولر انسٹالیشن ایکسپرٹ محمد گل باز کے مطابق پاکستان میں بجلی کے مسلسل بڑھتے ہوئے نرخ، کپیسیٹی پیمنٹس کا بوجھ، ایل این جی اور کوئلے جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار اور بجلی کی فراہمی سے متعلق مسائل نے صارفین کو متبادل ذرائع اختیار کرنے پر آمادہ کیا۔
محمد گل باز نے کہا کہ دوسری جانب چین میں سولر پینلز کی پیداواری لاگت اور عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی جبکہ پاکستان میں نیٹ میٹرنگ پالیسی نے گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کے لیے شمسی توانائی کو مزید پرکشش بنا دیا۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2024 کے دوران پاکستان نے چین سے تقریباً 17 گیگاواٹ صلاحیت کے سولر پینلز درآمد کیے جو سال 2023 کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ تھے۔
مزید پڑھیے: چینی کمپنی پاکستان میں سولر پینل فیکٹری لگانے کے لیے تیار؟
محمد گل باز کے مطابق اسی رجحان کے باعث پاکستان چین سے سولر آلات درآمد کرنے والے بڑے عالمی خریداروں میں شامل ہو گیا جبکہ اگست 2025 تک مجموعی پیداواری صلاحیت 50 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی۔
نجی سرمایہ کاری سے سولر انقلاب تک
پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق پاکستان کے سولر انقلاب کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی بڑی سرکاری سبسڈی یا مالی معاونت کے بغیر زیادہ تر نجی سرمایہ کاری سے ممکن ہوا۔
حسنات خان نے سولر درآمدات سے متعلق رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب تک 52 گیگا واٹ صلاحیت کے سولر پینلز درآمد کر چکا ہے۔
مزید پڑھیں: سستے سولر پینل کی تیاری آغاز، بجلی کے بلوں سے پریشان صارفین کے لیے بڑا ریلیف
واضح رہے کہ Renewable First کی تکنیکی تحقیق ’The Many Dividends of Solar Rush in Pakistan‘ کے مطابق مالی سال 2017 سے 2025 کے دوران پاکستان کے سولر شعبے میں 17 سے 19 ارب ڈالر تک کی نجی سرمایہ کاری ہوئی۔
یاد رہے کہ اس عرصے میں لاکھوں گھروں، کارخانوں، تجارتی مراکز، نجی ہسپتالوں، زرعی ٹیوب ویلوں اور چھوٹے کاروباروں نے اپنی مدد آپ کے تحت سولر سسٹمز نصب کیے جس کے نتیجے میں لاکھوں صارفین بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں، لوڈشیڈنگ اور عالمی توانائی بحران کے اثرات سے بڑی حد تک محفوظ ہوئے۔
پاکستان میں بڑے پیمانے پر سولر پینلز کی امپورٹ کو چیلنج کیوں سمجھا جا رہا ہے؟
معاشی اور توانائی امور پر گہرہ نظر رکھنے والے راجہ کامران کے مطابق اگرچہ سولر توانائی نے صارفین کو نسبتاً سستی بجلی، درآمدی ایندھن پر کم انحصار اور کاربن کے اخراج میں کمی جیسے فوائد فراہم کیے تاہم اس تیز رفتار تبدیلی نے قومی گرڈ اور بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے لیے نئے مالی اور تکنیکی مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ صنعتی اور تجارتی صارفین کی بڑی تعداد کے نیٹ میٹرنگ یا آف گرڈ نظام کی طرف منتقل ہونے سے تقسیم کار کمپنیوں کی آمدنی متاثر ہوئی ہے جس کے باعث کپیسیٹی چارجز کا بوجھ ان صارفین پر منتقل ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے جو مالی وسائل کی کمی کے باعث سولر سسٹم نصب نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیے: سولر پینل کتنے درجہ حرارت پر زیادہ بجلی بناتا ہے؟
انہوں نے ایک اور بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے تقریباً تمام سولر پینلز، انورٹرز اور دیگر اہم آلات بیرونِ ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ شعبہ عالمی سپلائی چین، درآمدی لاگت اور زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے متاثر رہتا ہے۔
’مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ ناگزیر ہے‘
راجہ کامران کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس بڑھتے ہوئے رجحان کو قومی معاشی فائدے میں تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے مقامی سطح پر سولر پینلز، سولر سیلز، انورٹرز اور بیٹریوں کی مینوفیکچرنگ اور اسمبلی کی صنعت کو فروغ دینا ہوگا جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کی بچت ممکن ہوگی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی گرڈ کی جدید کاری، ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز میں سرمایہ کاری کو بھی ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے تاکہ دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی شمسی توانائی کو ذخیرہ کرکے رات کے اوقات میں مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: کیا پاکستان میں سولر پینل کی مینوفیکچرنگ ممکن ہے؟
اگر پاکستان بروقت اور جامع توانائی پالیسی اختیار کرتا ہے تو موجودہ سولر انقلاب نہ صرف ملک کی توانائی سیکیورٹی کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ اس کو قابل تجدید توانائی کے شعبے میں خطے کا ایک اہم مرکز بھی بنا سکتا ہے۔













