پاکستان کے معدنیات اور توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) نے پہلی بار صوبہ سندھ میں زمینی شوراب (برائن) میں لیتھیم کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیتھیم بیٹریاں کتنی کارآمد ہوتی ہیں اور مارکیٹ ریٹ کیا ہے؟
مذکورہ دریافت کو ملک کی معدنی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ مستقبل میں پاکستان کے لیے توانائی، صنعت اور برآمدات کے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ او جی ڈی سی کے پائلٹ جیوتھرمل پروگرام کے تحت کامیابی سے آزمائے گئے بلند درجۂ حرارت کے ایک جیوتھرمل کنویں سے حاصل ہونے والے فارمیشن واٹر کا جدید جیوکیمیائی تجزیہ کیا گیا، جس کے نتائج میں لیتھیم کی نمایاں مقدار سامنے آئی۔
کمپنی کے مطابق اس دریافت کی خاص اہمیت یہ ہے کہ برائن میں موجود لیتھیم کی کثافت دنیا کے ان معروف جیوتھرمل ذخائر کے مساوی ہے، جہاں یورپ اور شمالی امریکا میں تجارتی بنیادوں پر لیتھیم حاصل کیا جا رہا ہے۔
اس دریافت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ روایتی کان کنی کے برعکس جیوتھرمل شوراب سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نسبتاً کم لاگت، کم ماحولیاتی اثرات اور زیادہ مؤثر انداز میں لیتھیم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ او جی ڈی سی کے مطابق پاکستان میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی کامیاب دریافت ہے، جس کے بعد ملک ان چند ریاستوں میں شامل ہو گیا ہے جو جیوتھرمل برائن کو لیتھیم کے ایک ممکنہ اور پائیدار ذریعے کے طور پر ترقی دے رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لیتھیم جدید معیشت کی اہم ترین معدنیات میں شمار ہوتا ہے اور بڑھتی ہوئی عالمی طلب کے باعث اسے اکثر ’وائٹ گولڈ’ بھی کہا جاتا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں، قابلِ تجدید توانائی کے ذخیرہ جاتی نظام، اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور جدید صنعتی و دفاعی ٹیکنالوجیز کی تیاری میں لیتھیم بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جبکہ صاف توانائی کی جانب عالمی منتقلی نے اس دھات کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔
ماہرین ارضیات کے مطابق لیتھیم کی موجودگی کی ابتدائی تصدیق یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم کسی بھی دریافت کی اصل اہمیت کا انحصار اس کے تجارتی حجم، لیتھیم کی کثافت، بازیافت (ریکوری) کی شرح اور پیداواری لاگت پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اگر آئندہ فزیبلٹی اسٹڈیز اور سائنسی تجزیے معاشی بنیادوں پر لیتھیم کے حصول کی تصدیق کر دیتے ہیں تو پاکستان عالمی لیتھیم سپلائی چین میں ایک مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: لیتھیم فاسفیٹ اور عام بیٹریوں میں کون سی زیادہ دیرپا؟
اگر آئندہ مراحل میں مزید تحقیق کے ذریعے اس ذخیرے کی مقدار، معیار اور تجارتی امکانات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو پاکستان نہ صرف اپنی معدنی معیشت کو نئی تقویت دے سکے گا بلکہ عالمی لیتھیم سپلائی چین میں بھی ایک مؤثر مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، روزگار کے نئے مواقع اور برآمدات میں اضافے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
او جی ڈی سی نے اس ابتدائی کامیابی کے بعد بین الاقوامی تکنیکی ماہرین اور کنسلٹنٹس کے تعاون سے اگلے مرحلے پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس مرحلے میں برائن کے مزید جیوکیمیائی تجزیے، ذخائر کے حجم اور معیار کا تفصیلی جائزہ، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے لیتھیم کے اخراج کی آزمائش اور تجارتی بنیادوں پر منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی شامل ہوگی، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ اس ذخیرے سے معاشی طور پر منافع بخش انداز میں لیتھیم کی پیداوار کس حد تک ممکن ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت، چینی کمپنی سے ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے لیے معاہدہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو یہ صرف او جی ڈی سی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے معدنی، توانائی اور صنعتی شعبوں کے لیے بھی ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے جو ملک کو صاف توانائی کی عالمی معیشت میں ایک نئی شناخت دلانے کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔











