اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ہیپاٹائٹس سی کو قومی ہنگامی صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب خاموش رہنے کا وقت گزر چکا، پاکستان کو اس بیماری کے خاتمے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔
عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ایسی بیماری کے باعث قیمتی جانوں کا نقصان برداشت نہیں کر سکتا جس کی روک تھام، تشخیص اور علاج ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب صرف ایک عالمی دن منانے کے لیے نہیں بلکہ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرنے کے لیے منعقد کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی یومِ ہیپاٹائٹس: صدر اور وزیراعظم کا 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی اب محض صحت کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک قومی ہنگامی صورتحال بن چکا ہے، جس کے لیے فوری اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جہاں ایک کروڑ سے زائد افراد اس وائرس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ہر سال تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار محض معمول کے اعداد نہیں بلکہ فوری قومی توجہ کے متقاضی ہیں۔
وزیر صحت کے مطابق جدید اینٹی وائرل ادویات کی دستیابی کے باعث ہیپاٹائٹس سی اب قابلِ علاج بیماری بن چکی ہے اور بروقت تشخیص اور علاج کے ذریعے 95 فیصد سے زائد مریض مکمل صحت یاب ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کا پھیلاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا، عالمی ادارہ صحت
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے قومی ہیپاٹائٹس سی خاتمے کے پروگرام کا مقصد صرف پالیسی کا اعلان نہیں بلکہ مریضوں کی بروقت شناخت کے لیے مفت اسکریننگ، مفت تشخیصی ٹیسٹ اور مفت علاج کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق یہ پروگرام مرحلہ وار پورے ملک میں وسعت دیا جائے گا، جس کا ہدف 16 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد کی اسکریننگ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں اس پروگرام پر براہ راست عمل درآمد کر رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر اسے ملک بھر تک پھیلانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی کوششوں کے ذریعے پاکستان 2030 تک ہیپاٹائٹس سے پاک ملک بننے کا ہدف حاصل کر سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے بھی تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ سائنسی بنیادوں پر فوری اقدامات کریں۔ عالمی ادارے نے پاکستان کی جانب سے 2030 تک ہیپاٹائٹس کو صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر ختم کرنے کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کے سرِفہرست ممالک میں پہلے نمبر پر آگیا
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 29 لاکھ ہے، جن میں 90 لاکھ ہیپاٹائٹس سی جبکہ 38 لاکھ ہیپاٹائٹس بی کے مریض شامل ہیں۔ ہر سال پاکستان میں قابلِ روک تھام اور قابلِ علاج ہیپاٹائٹس انفیکشنز کے باعث 48 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں، یعنی اوسطاً ہر 11 منٹ میں ایک موت واقع ہوتی ہے۔
پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈاپینگ نے کہا کہ ادارہ پاکستان کے ساتھ تحقیق، جدت، ہیپاٹائٹس کی خدمات کو صحت کی عالمی سہولیات میں شامل کرنے، ویکسینیشن سمیت روک تھام کے اقدامات اور ہر خاندان کے لیے معیاری ٹیسٹ اور علاج کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی عالمی ہیپاٹائٹس رپورٹ 2026 کے مطابق ہیپاٹائٹس بی اور سی، جو دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس سے ہونے والی 95 فیصد اموات کا سبب بنتے ہیں، 2024 میں 13 لاکھ 40 ہزار جانیں لے گئے، جبکہ روزانہ دنیا بھر میں 4 ہزار 900 سے زائد نئے انفیکشنز رپورٹ ہو رہے ہیں۔












