ماہرین آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے ماہرین نے موئن جو دڑو میں نئی آثارِ قدیمہ تحقیق شروع کرنے اور قدیم شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو اس تاریخی مقام سے بہتر طور پر آگاہ کیا جا سکے، ثقافتی سیاحت کو فروغ ملے اور پاکستان کے قدیم ورثے سے متعلق شعور میں اضافہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ: تہذیب کا گہوارہ، پاکستان کی روح
یہ سفارشات کراچی کے نیشنل میوزیم آف پاکستان میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران پیش کی گئیں، جہاں سندھ ایکسپلوریشن اینڈ آرکیالوجیکل سوسائٹی (سیز پاکستان) کی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر اسما ابراہیم، معروف ماہر آثارِ قدیمہ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری اور امریکا کی وسکونسن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سینئر ماہر آثارِ قدیمہ ڈاکٹر جوناتھن مارک کینائر نے موئن جو دڑو کے 2025-26 کے تحقیقی سیزن کے نتائج پیش کیے۔
ماہرین نے زور دیا کہ قدیم شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے سے عوام کو موئن جو دڑو کی تاریخ کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور سیاحوں کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اونٹ کے جسم پر گل کاری کا آرٹ
اس موقع پر سندھ محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات و آثارِ قدیمہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی لاشاری نے موئن جو دڑو میوزیم اور آثارِ قدیمہ کے مقام کے لیے 2026 سے 2030 تک کے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے میں آثارِ قدیمہ کی تحقیق، تاریخی ورثے کے تحفظ، میوزیم کی جدید خطوط پر بحالی، ڈیجیٹل دستاویز سازی اور پائیدار ثقافتی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔














