نریندر مودی دور میں شہری آزادیوں کی صورتحال مزید خراب، سوکس نے بھارت کو واچ لسٹ میں شامل کر لیا

جمعرات 30 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 بین الاقوامی شہری حقوق کی تنظیم’سوکس‘ (CIVICUS) نے وزیراعظم نریندر مودی کی تیسری مدتِ حکومت کے دوران بھارت میں شہری آزادیوں کی تیزی سے بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک کو اپنی تازہ مانیٹر واچ لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دنیا بھر میں شہری آزادیوں کا جائزہ لینے والی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ، آزاد میڈیا اور سول سوسائٹی کی تنظیموں پر بڑھتی پابندیاں، حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف انسداد دہشتگردی قوانین اور دیگر قانونی اختیارات کے مبینہ وسیع استعمال نے شہری آزادیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سوکس مانیٹر نے بھارت کو شہری آزادیوں کے عالمی اشاریے میں Repressed (شدید پابندیوں کا شکار) قرار دیا ہے، جو اس درجہ بندی کی دوسری بدترین کیٹیگری ہے۔ اس زمرے میں اظہارِ رائے، پرامن اجتماع اور تنظیم سازی کی آزادی پر سخت پابندیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ بھارت کو اس تازہ واچ لسٹ میں بحرین، برکینا فاسو، ایکواڈور اور جارجیا کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے آزاد کشمیر کے عوام پرسکون، مقبوضہ کشمیر خوف کی فضا میں، محبوبہ مفتی کا اعتراف

تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مارچ 2026 میں دہلی پولیس نے طلبہ، مزدوروں کے حقوق کے کارکنوں اور بے دخلی کے خلاف مہم چلانے والوں سمیت 11 افراد کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا اور ان کے اہل خانہ کو بھی اس بارے میں اطلاع نہیں دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق زیر حراست بعض افراد کو مبینہ طور پر تشدد اور ناروا سلوک کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے مسلسل استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ تنظیم کے مطابق قومی تحقیقاتی ادارے (NIA) نے بھیمہ کوریگاؤں کیس سے منسلک کارکنوں کے خلاف کارروائیاں دوبارہ تیز کر دی ہیں، جبکہ کارکن عمر خالد اور شرجیل امام کو 2020 سے یو اے پی اے کے تحت قید ہونے کے باوجود ایک مرتبہ پھر ضمانت نہیں دی گئی۔

تنظیم نے پرامن احتجاج کے لیے دستیاب آزادی کم ہونے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اپریل میں نوئیڈا میں فیکٹری مزدوروں کے احتجاج کے بعد 300 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ 20 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے زیر اہتمام ہونے والے نوجوانوں کے احتجاج کے دوران بھی مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا۔

سوکس کے ایشیا پیسیفک ریسرچر جوزف بینیڈکٹ نے کہا کہ بھارتی حکومت اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے سخت گیر انسداد دہشتگردی قوانین کا منظم انداز میں استعمال بڑھا رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ’جب انسانی حقوق کے کارکن بنیادی آزادیوں کے استعمال پر برسوں تک عدالتی کارروائیوں میں الجھے رہتے ہیں تو خود یہ قانونی عمل ہی سزا کی ایک شکل اختیار کر لیتا ہے۔‘

رپورٹ میں صحافیوں اور آزاد میڈیا پر بڑھتے دباؤ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق تحقیقاتی صحافی روی نائر کو فوجداری ہتکِ عزت کے مقدمے میں قید کیا گیا، جبکہ ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم تلگو سکرائب کے خلاف انسداد دہشتگردی قوانین کے تحت تحقیقات شروع کی گئیں۔ اسی طرح آسام کے وزیراعلیٰ پر تنقیدی رپورٹنگ کے بعد روزنامہ اسومیا پراتیدن کے دفتر پر حملے کا بھی حوالہ دیا گیا۔

تنظیم نے بھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز میں مجوزہ ترامیم پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے حکومت کو صحافیوں اور آزاد خبر رساں اداروں کے خلاف سنسرشپ کے مزید وسیع اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔ رپورٹ میں انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی پر مبنی فلم ستلج  پر ریلیز کے فوراً بعد عائد کی گئی پابندی کا بھی حوالہ دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق غیر سرکاری تنظیمیں فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ  کے تحت مسلسل سخت پابندیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ جون 2026 میں منظور کی گئی ترامیم کے تحت جن تنظیموں کے غیر ملکی فنڈنگ لائسنس منسوخ کیے جائیں، ان کے اثاثوں پر حکومتی کنٹرول مزید بڑھا دیا گیا ہے، رپورٹنگ کی نئی شرائط نافذ کی گئی ہیں اور این جی اوز کی سیاسی سرگرمیوں پر مزید قدغنیں عائد کی گئی ہیں۔

جوزف بینیڈکٹ نے کہا کہ ’ایف سی آر اے میں یہ ترامیم آزاد سول سوسائٹی کو محدود کرنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہیں۔ حکومت فنڈنگ، اظہارِ رائے اور سماجی سرگرمیوں پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر رہی ہے، جس سے اختلافی آوازوں کے لیے گنجائش انتہائی محدود ہوتی جا رہی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں کم عمر لڑکیاں لاپتہ، لوک سبھا میں تشویشناک انکشاف

تنظیم نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر  کی صورتحال پر بھی خصوصی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں شہری آزادیوں پر عائد پابندیاں بدستور انتہائی سخت ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز اور صحافی عرفان معراج کو جولائی میں طویل قید کے بعد سخت شرائط کے ساتھ ضمانت پر رہا کیا گیا، تاہم ان کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمات اب بھی برقرار ہیں۔

اس کے علاوہ حکام نے انٹرنیٹ پر پابندیوں کے ذریعے معلومات تک رسائی محدود کر رکھی ہے، انسانی حقوق سے متعلق سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ حال ہی میں مبینہ طور پر قابلِ اعتراض مواد پر مشتمل کتابوں کی اشاعت کے الزام میں تین ناشروں کو بھی گرفتار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صدر زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

چین کے وین چھانگ خلائی مرکز نے 50ویں کامیاب لانچ کا سنگِ میل عبور کرلیا

افغانستان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے تباہی، درجنوں افراد جاں بحق، ہزاروں متاثر

چین:لاجسٹکس میں بڑی پیشرفت، شیامن پورٹ پر جہاز سے ٹرین تک براہِ راست منتقلی

ایران چند ہفتوں میں چین سے سینکڑوں جدید فضائی دفاعی میزائل حاصل کرے گا،رائٹرز کا دعویٰ، بیجنگ کی تردید

ویڈیو

محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی

ایکشن کمیٹی نے الیکشن فارم سے ریاست پاکستان سے وفاداری کی شق نکالنے کا مطالبہ کیا، وزیر امور کشمیر امیر مقام

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

کالم / تجزیہ

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین