بھارتی حکومت نے پہلی بار باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ طویل عرصے سے جاری تنازع اور قدرتی آفات کے باعث بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ذہنی و نفسیاتی بیماریاں تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق راجیہ سبھا میں نیشنل کانفرنس کے رکن سجاد احمد کچلو کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں بھارتی وزیرِ مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود پرتاپراؤ جادھو نے اعتراف کیا کہ مقبوضہ علاقے میں طویل تنازعے کے گہرے اثرات عوام کی ذہنی صحت پر مرتب ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے نفسیاتی علاج کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ‘نیشنل مینٹل ہیلتھ سروے’ کا آغاز کر رہی ہے تاکہ ذہنی امراض کی حقیقی شرح اور بالخصوص زیادہ متاثرہ و حساس طبقات کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خطے میں نفسیاتی مراکز، منشیات سے نجات کے بحالی مراکز اور کاؤنسلنگ کی سہولیات کو وسعت دی جا رہی ہے۔
حقوقِ انسانی کے مبصرین اور مقامی تنظیموں کا موقف
طبی سہولیات میں اضافے کے بھارتی حکومت کے دعوؤں کو رد کرتے ہوئے انسانی حقوق کے مبصرین اور مقامی تنظیموں نے کہا ہے کہ اس بحران کی اصل وجہ خطے کی سیاسی صورتحال ہے۔ وادی میں مسلسل بھاری فوجی موجودگی، آزادیِ اظہارِ رائے پر پابندیاں، رات کے وقت چھاپے، بے جا گرفتاریاں اور خوف کا ماحول کشمیری عوام، خصوصاً نوجوانوں اور خواتین کے شدید ذہنی دباؤ (PTSD) کا بنیادی سبب ہیں۔
مبصرین کے مطابق جب تک تنازعے کے سیاسی و معروضی حل کی جانب پیش رفت نہیں ہوتی اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی ممکن نہیں بنائی جاتی، محض طبی مراکز کے قیام سے وادی کے ہر گھر تک پھیلے اس نفسیاتی بحران پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیے بالی ووڈ فلم ’چوہان‘ پر ہنگامہ، مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن متاثرین کا شدید ردِعمل
بین الاقوامی طبی تنظیم ‘ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز’ (MSF) کی سابقہ رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ کشمیر میں 45 فیصد سے زائد بالغ آبادی کسی نہ کسی نوعیت کے شدید ذہنی دباؤ، ڈپریشن یا پوسٹ ٹراماٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) میں مبتلا ہے۔
وادی کے واحد بڑے نفسیاتی ہسپتال مینٹل اسپتال سری نگر میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سینکڑوں گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جہاں 1990 سے قبل سالانہ چند ہزار مریض آتے تھے، وہیں اب ہر سال لاکھ سے زائد افراد نفسیاتی علاج اور کاؤنسلنگ کے لیے رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔
وادی میں مسلسل ناامیدی، معاشی و سیاسی خدشات اور تشدد کے ماحول کے باعث نوجوانوں میں منشیات کا استعمال (Substance Abuse) اور خودکشی کے واقعات بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں، جسے عالمی ادارے پہلے ہی ایک ’خاموش ایمرجنسی‘ قرار دے چکے ہیں۔














