بالی ووڈ کی آنے والی فلم ’چوہان‘ مقبوضہ جموں و کشمیر میں پیلٹ گن حملوں کے متاثرین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ماہرین کی شدید تنقید کا سامنا کر رہی ہے۔ فلم کے ٹیزر میں اداکار اجے دیوگن ایک بھارتی سیکیورٹی افسر کے کردار میں پیلٹ گنز کو ’محدود نقصان‘ پہنچانے والا ہتھیار قرار دیتے ہیں جس پر متاثرین نے اسے اپنے دکھ اور قربانیوں کی توہین قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں پیلٹ گن حملوں کے متاثرین کی داستانیں اور ماہرین کی آراء شائع کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ فلم نے ان ہزاروں کشمیریوں کے درد کو نظر انداز کیا ہے جو پیلٹ فائرنگ کے باعث ہمیشہ کے لیے بینائی سے محروم یا شدید زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: بڑے اور چھوٹے اداکاروں کے لیے کھانے کا الگ مینیو، بالی ووڈ کا بدنما چہرہ بے نقاب
رپورٹ میں 2016 میں سوپور کے احتجاج کے دوران بینائی کھونے والے فیروز اسلم اور مسرور خالد کے حالات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ دونوں متاثرین کا کہنا ہے کہ فلم کا ٹیزر ان کے لیے تلخ یادیں تازہ کر گیا۔ فیروز اسلم کے بقول اگر فلم ساز صرف ایک دن کے لیے بینائی سے محرومی کا تجربہ کریں تو انہیں اندازہ ہوگا کہ ایسے متاثرین کس اذیت سے گزرتے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق بھارت نے 2010 میں پیلٹ گنز کو ہجوم منتشر کرنے کے لیے نام نہاد ’غیر مہلک‘ ہتھیار کے طور پر متعارف کرایا تاہم ان کے استعمال سے وادی کشمیر میں ہزاروں افراد شدید زخمی ہوئے۔ جولائی 2016 میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے عوامی احتجاج کے دوران پیلٹ گنز کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا جس میں تقریباً 100 کشمیری جاں بحق جبکہ سینکڑوں افراد جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے بینائی سے محروم ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ نے میرا گانا ’نچ پنجابن‘ جعلی دستاویزات کے ذریعے چوری کیا، ابرار الحق کا الزام
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایک ہزار سے زائد کشمیری جزوی یا مکمل طور پر بینائی کھو چکے ہیں جبکہ متاثرین میں بڑی تعداد بچوں کی بھی شامل ہے۔
کشمیر پر تحقیق کرنے والی ماہرِ بشریات سائبا ورما نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ فلم کا بیانیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی عوامی مباحثے میں ریاستی تشدد کو معمول کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق فلم میں کشمیریوں کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے جو ان کے بارے میں منفی اور غیر انسانی تصورات کو مزید تقویت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ کی چمک دمک کے پیچھے چھپی تاریک دنیا، مادھوری ڈکشٹ نے بڑا راز کھول دیا
امریکا میں قائم سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (CSOH) کے سربراہ راکب حمید نائیک کا کہنا ہے کہ 2014 کے بعد بالی ووڈ کی متعدد فلمیں کشمیر سے متعلق بھارتی حکومت کے مؤقف کو تقویت دینے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی فلموں میں کشمیری مسلمانوں کو اکثر منفی کرداروں میں پیش کیا جاتا ہے۔
کشمیری محقق اور شاعرہ عاطر ضیا نے کہا کہ بالی ووڈ نے طویل عرصے سے کشمیر اور کشمیری عوام کی یک رخا تصویر کشی کی ہے جہاں انہیں یا تو محض پس منظر کا حصہ بنایا جاتا ہے یا شدت پسند کرداروں کی شکل میں دکھایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ فلم ’دادی کی شادی‘ پاکستانی ٹیلی فلم کی کاپی ہے، سوشل میڈیا پر سنگین الزامات
رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ کشمیر میں پیلٹ گنز کے استعمال پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے بھی بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 2021 میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بچوں کے خلاف پیلٹ گنز کے استعمال کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ بھارتی سپریم کورٹ بھی ماضی میں ان کے اندھا دھند استعمال پر سوالات اٹھا چکی ہے۔
پیلٹ حملوں کے متاثرین کا کہنا ہے کہ کوئی فلم ان کی زندگیوں کی تلخ حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ ان میں سے بہت سے افراد آج بھی بینائی سے محرومی، مسلسل جسمانی تکالیف اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ان کے اہل خانہ علاج اور طویل مدتی نگہداشت کے بھاری اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔












