امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی نجی ملاقات میں اسرائیلی حکومت کی پالیسی، ایران سے متعلق سفارتی کوششوں اور جنگ کے تسلسل پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔
امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق وینس نے نیتن یاہو کو واضح پیغام دیا کہ واشنگٹن کی سفارتی حکمت عملی کو کمزور کرنے اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنے سے گریز کیا جائے۔
نجی ملاقات میں اختلافات پر کھل کر بات
امریکی اور اسرائیلی حکام کی رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ان پالیسی اختلافات پر براہ راست گفتگو کی جو گزشتہ کئی ماہ سے دونوں رہنماؤں کے درمیان موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سیکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع، کون سی خفیہ معلومات افشا کی؟
رپورٹس کے مطابق وینس نے جنگ کے آغاز سے ہی ٹرمپ انتظامیہ کے اندر نیتن یاہو کی حکمت عملی پر سب سے زیادہ تنقیدی مؤقف اختیار کیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ جنگ طویل ہوتی گئی تو ان کی تنقید میں مزید شدت آتی چلی گئی، جبکہ انہیں جنگی پالیسی اور ایران سے مذاکرات کے معاملات میں بھی زیادہ ذمہ داریاں سونپی گئیں۔
ایران معاہدے پر اختلافات
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران سے متعلق ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ‘پر بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان واضح اختلافات موجود تھے۔
نیتن یاہو اس معاہدے سے متفق نہیں تھے، تاہم انہوں نے اس کے خلاف کھل کر عوامی سطح پر مہم نہیں چلائی اور اس کے خود بخود ختم ہونے کا انتظار کرتے رہے۔
مز ید پڑھیں:جے ڈی وینس کا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے خلاف اسرائیلی اراکین کی سازش کا انکشاف
اس کے باوجود دونوں فریقوں کے درمیان پس پردہ کشیدگی برقرار رہی اور متعدد معاملات پر اعتماد کا فقدان نمایاں رہا۔
وینس کی سخت تنقید
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو، جے ڈی وینس کی ان عوامی تنقیدی بیانات پر بھی ناراض تھے جن میں نائب صدر نے اسرائیلی وزیراعظم پر ایران سے متعلق مفاہمتی کوششوں کے خلاف مزاحمت کو ہوا دینے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مکمل وفاداری نہ دکھانے کا الزام عائد کیا تھا۔
وینس کا یہ بھی مؤقف تھا کہ نیتن یاہو کے قریبی ساتھی اور ان کے حامی ذرائع ابلاغ اسرائیل اور امریکا میں ان کے خلاف منظم منفی مہم چلا رہے تھے تاکہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
مارچ کی ملاقات بھی کشیدہ رہی
میڈیا رپورٹ کے مطابق مارچ میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان ماحول خاصا کشیدہ رہا تھا۔
اس موقع پر جے ڈی وینس نے نیتن یاہو کو بتایا تھا کہ جنگ کے حوالے سے ان کی کئی پیش گوئیاں درست ثابت نہیں ہوئیں، خصوصاً اس دعوے کے بارے میں کہ عوامی بغاوت کے نتیجے میں مخالف حکومت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
بعد ازاں وینس نے اسرائیلی حکومتی ارکان کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر میں اسرائیلی کابینہ کا رکن ہوتا تو دنیا میں اپنے واحد طاقتور اتحادی پر تنقید نہ کرتا۔‘
‘پروپیگنڈا مہم’ کا الزام
جے ڈی وینس نے اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ امریکا کو سفارتی راستے سے ہٹانے اور جنگ کو جاری رکھنے کے لیے منظم پروپیگنڈا مہم چلا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات روایتی طور پر انتہائی مضبوط رہے ہیں، تاہم ایران، جنگی حکمت عملی اور سفارتی اقدامات کے حوالے سے دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو اسرائیلی حکومت کی بعض پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں، جبکہ نیتن یاہو ایران اور خطے کی سیکیورٹی سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ حالیہ نجی ملاقات کو انہی اختلافات کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔














