ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس سے عالمی توانائی بحران میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم تیل بردار جہازوں اور شپنگ کمپنیوں نے فوری طور پر معمول کی سرگرمیاں بحال نہیں کیں۔ دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز میں اب بھی سیکیورٹی خدشات، ممکنہ بارودی سرنگوں اور مستقبل میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے خطرات موجود ہیں۔
🚨 President Donald J. Trump has SIGNED the Iran Memorandum of Understanding at Versailles in France. 🇺🇸 pic.twitter.com/JQ6qlbvFAF
— The White House (@WhiteHouse) June 17, 2026
جنگ سے قبل روزانہ 120 سے 140 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، جن میں تقریباً نصف تیل بردار جہاز شامل تھے جو روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل لے جاتے تھے۔ تنازع شروع ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ معاہدے کے اعلان کے بعد اگرچہ راستہ کھول دیا گیا، مگر چند دنوں میں صرف محدود تعداد میں جہازوں نے گزرنے کی کوشش کی۔
شپنگ کمپنیاں اور انشورنس ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت دوبارہ کشیدگی شروع ہو سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں خلیج کے علاقے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے نے بحری سفر کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز اپنے تنگ ترین مقام پر صرف تقریباً 33 کلومیٹر چوڑی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی واقعے کے عالمی تجارت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ ممکنہ بارودی سرنگوں کا ہے۔ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے میں بارودی سرنگیں بچھانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، تاہم اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ امریکا نے بھی ان خطرات کا ذکر کیا اور کہا کہ ممکنہ سرنگوں کی صفائی ضروری ہوگی۔ ماہرین کے مطابق جب تک محفوظ بحری راستے کی مکمل تصدیق نہیں ہوتی، انشورنس کمپنیاں جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور چین آبنائے ہرمز کو عسکریت سے محفوظ رکھنے پر متفق اور کسی بھی قسم کی چنگی کے مخالف ہیں، مارکو روبیو
ایک اور اہم مسئلہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ممکنہ فیس یا انتظامی چارجز ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ محفوظ آمدورفت کے انتظام کے لیے فیس وصول کر سکتا ہے، جبکہ امریکا اور خلیجی ممالک اسے آزادیٔ جہاز رانی کے اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا عالمی معیشت کے لیے مثبت قدم ہے، لیکن مکمل معمول کی بحالی کے لیے صرف سیاسی معاہدہ کافی نہیں ہوگا۔ جہاز مالکان اور انشورنس ادارے طویل عرصے تک امن، استحکام اور محفوظ راستے کی ضمانت چاہتے ہیں، جس کے بعد ہی دنیا کی اس اہم ترین سمندری گزرگاہ پر معمول کی سرگرمیاں بحال ہو سکیں گی۔














