وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے مقبول انجیکشنز، جیسے اوزیمپک، ویگووی اور مونجارو، لینے والے افراد میں بال جھڑنے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔ نئی طبی تحقیق کے مطابق یہ ادویات استعمال کرنے والے افراد میں دیگر ذیابیطس کی ادویات لینے والوں کے مقابلے میں بال گرنے کا امکان 70 فیصد تک زیادہ پایا گیا ہے۔
امریکا کی یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے محققین نے 50 ہزار سے زائد مریضوں کے طبی ریکارڈز کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں ان افراد کا موازنہ کیا گیا جو GLP-1 ادویات استعمال کر رہے تھے، ان مریضوں سے جو ذیابیطس کے علاج کے لیے DPP-4 اور SGLT-2 گروپ کی دیگر ادویات لے رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:بالوں کے جھڑنے کا خاتمہ ممکن، نئی سائنسی پیشرفت نے امید جگا دی
تحقیق کے نتائج کے مطابق ویگووی اور مونجارو استعمال کرنے والوں میں بال جھڑنے یا ایلوپیشیا کا خطرہ DPP-4 ادویات استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 69 فیصد اور SGLT-2 ادویات لینے والوں کے مقابلے میں 37 فیصد زیادہ تھا۔
ماہرین کے مطابق بال جھڑنے کا مسئلہ عموماً انجیکشن شروع کرنے کے تقریباً ایک سال بعد سامنے آیا۔ یہ رجحان مردوں اور خواتین دونوں میں دیکھا گیا، تاہم خواتین میں اس کے امکانات نسبتاً زیادہ پائے گئے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ان ادویات سے جسم میں ہارمونل تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں، جو بالوں کی نشوونما کے قدرتی عمل کو متاثر کرتی ہیں، خصوصاً ایسے افراد میں جو پہلے ہی ہارمونز سے متعلق کسی مسئلے کا شکار ہوں۔
After people reported hair loss when using a GLP-1 drug, researchers confirmed this side effect by comparing it to other type 2 diabetes drugs. https://t.co/GifjgVeDha
— Discover Magazine (@DiscoverMag) July 29, 2026
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کیفیت میں بالوں کے فولیکلز مستقل طور پر متاثر نہیں ہوتے، یعنی یہ ’نان اسکارنگ ایلوپیشیا‘ کی ایک قسم ہے، جس میں مناسب علاج اور وقت کے ساتھ بال دوبارہ اگنے کا امکان موجود رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق وزن میں تیزی سے کمی، سخت غذائی پابندی، ذہنی دباؤ اور آئرن، زنک اور بایوٹن جیسے اہم غذائی اجزا کی کمی بھی بال جھڑنے کی بڑی وجوہات بن سکتی ہیں۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) بھی ان ادویات کے استعمال کے بعد بال جھڑنے کی موصول ہونے والی رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔
ba
تاہم ماہرین نے زور دیا ہے کہ اس تحقیق سے خطرے میں اضافے کی نشاندہی ضرور ہوتی ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ خطرہ اب بھی محدود ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے ایک محقق کے مطابق متبادل ذیابیطس کی ادویات کے مقابلے میں ان انجیکشنز کے استعمال سے ہر ایک ہزار مریضوں میں تقریباً تین اضافی کیسز سامنے آئے، اس لیے مریض بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے دوا کا استعمال ترک نہ کریں۔














