بالوں کے جھڑنے کا خاتمہ ممکن، نئی سائنسی پیشرفت نے امید جگا دی

بدھ 10 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بالوں کا جھڑنا دنیا بھر میں کروڑوں مرد و خواتین کے لیے ایک جذباتی اور نفسیاتی مسئلہ ہے لیکن اب جاپانی سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق نے اس حوالے سے امید کی ایک نئی کرن جگا دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کاسمیٹیکوریکسیا: بچیاں اسکن کیئر کے جنون میں مبتلا، جلد اور ذہنی کیفیت دونوں داؤ پر

ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ بالوں کی قدرتی نشوونما کے مکمل چکر کو دوبارہ تخلیق کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو مستقبل میں گنج پن اور بالوں کے جھڑنے کے علاج میں انقلاب لا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بالوں کا جھڑنا صرف ظاہری شکل کا مسئلہ نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کے لیے شناخت، اعتماد اور شخصیت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً ایک تہائی خواتین اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر بالوں کے جھڑنے کا سامنا کرتی ہیں جبکہ مردوں میں بھی یہ مسئلہ عام ہے۔

بالوں کی اہمیت صرف خوبصورتی تک محدود نہیں

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ بال انسانی شناخت کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں۔ تاریخ میں بھی بالوں کو طاقت، سماجی حیثیت، مذہبی وابستگی اور شخصیت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ اسی لیے بالوں کا اچانک جھڑ جانا یا ختم ہو جانا بہت سے افراد کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا باعث بنتا ہے۔

مزید پڑھیے: صحت بخش غذا کھانے کے لیے خود کو دھوکا دینے کے چند آسان طریقے

خصوصاً کینسر کے علاج کے دوران کیموتھراپی سے گزرنے والے مریضوں کے لیے بالوں کا جھڑنا بیماری کی ایک نمایاں علامت بن جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بہت سے مریض اسے صرف ظاہری تبدیلی نہیں بلکہ اپنی شناخت کے ایک حصے کے کھو جانے کے طور پر محسوس کرتے ہیں۔

سائنسدانوں کی نئی پیشرفت

جاپان کے پروفیسر تاکاشی سوجی اور ان کی ٹیم نے ایک ایسی نئی قسم کے خلیے کی نشاندہی کی ہے جو بالوں کے فولیکل کی نشوونما، افزائش اور دوبارہ پیدا ہونے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت بالوں کی افزائش کے حوالے سے ایک بڑی پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے چوہوں میں ایسے بالوں کے فولیکل تیار کیے جو قدرتی بالوں کی طرح بار بار اگنے، گرنے اور دوبارہ اگنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ماہرین کے مطابق اس سے پہلے لیبارٹری میں مکمل طور پر فعال بالوں کے فولیکل تیار کرنا ممکن نہیں ہو سکا تھا۔

خواتین میں بالوں کے جھڑنے پر تحقیق کی کمی

ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کے جھڑنے سے متعلق زیادہ تر سائنسی تحقیق مردوں پر مرکوز رہی ہے جبکہ خواتین میں اس مسئلے کی وجوہات اور علاج کے حوالے سے نسبتاً کم تحقیق کی گئی ہے۔ بعض حالیہ مطالعات سے یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ مردوں اور خواتین میں بالوں کے جھڑنے کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔

کیا انسانوں میں بھی یہ علاج ممکن ہوگا؟

اگرچہ موجودہ تحقیق صرف چوہوں پر کی گئی ہے تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت انسانوں میں بالوں کی دوبارہ افزائش کے علاج کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق انسانی بالوں کا نظام زیادہ پیچیدہ ہے لیکن اب وہ اس منزل کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب پہنچ چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی کامیاب ثابت ہوتی ہے تو نہ صرف گنج پن بلکہ الوپیشیا، عمر کے ساتھ بالوں کا کم ہونا اور کینسر کے علاج کے بعد بالوں کی بحالی جیسے مسائل کا بھی مؤثر حل سامنے آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: آم کے آم گٹھلیوں کے دام: لذیذ کھانے بھی وزن کم کرنے کے عمل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جانیے کیسے؟

بالوں کے جھڑنے کا مکمل علاج ابھی دستیاب نہیں لیکن سائنسدانوں کی یہ نئی تحقیق اس خواب کو حقیقت کے قریب لے آئی ہے جس کا انتظار دنیا بھر میں کروڑوں افراد برسوں سے کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیراماؤنٹ اور وارنر برادرز ڈسکوری کے اربوں ڈالر کے انضمام کو عدالتی حکم سے روک دیا گیا

فیفا ورلڈ کپ 2026 جیتنے پر اسپین پر ڈالروں کی بارش، کتنا انعام ملا؟

کینیڈا میں جنگلاتی آگ بے قابو، دھوئیں نے امریکا کے کئی علاقوں کو لپیٹ میں لے لیا

سی پی ایل 2026، صائم ایوب جمیکا کنگز مین اسکواڈ کا حصہ بن گئے

پاکستان اور کینیڈا کا دوطرفہ تعلقات، تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق

ویڈیو

ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی پاکستان پہنچ گئے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں متوقع

کراچی سو رہا تھا، مگر ’منی برازیل‘ جاگ رہا تھا، لیاری میں فٹبال فائنل کی رات کیسی گزری؟

نورین نیازی کے بیان پر عوام کا شدید غصہ، مولانا فضل الرحمان معافی نہ مانگنے پر بضد، کالعدم ایکشن کمیٹی کی بڑی سازش

کالم / تجزیہ

ورلڈ کپ ختم ہوا، کہانی نہیں

کیا واقعی کچھ ہونے والا ہے؟

ایک اور وکلا تحریک: ہماری توبہ، ہمیں معاف رکھیں