گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت قائم کردہ فون گرو فارم خانیوال کا قیام کا مقصد پاکستان میں جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی، تجارتی لحاظ سے منافع بخش اور پائیدار زرعی نظام کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان میں ہرن فارمنگ، منافع بخش کاروبار بھی اور ماحولیات کی خدمت بھی
اس منصوبے کے باعث مقامی کاشتکار اور کارپوریٹ زرعی ادارے ان جدید طریقوں کو اپنا کر اپنی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ کر سکیں گے۔
فون گرو فارم 3 بنیادی شعبوں، زراعت، بیج اور لائیو اسٹاک پر مشتمل ہے۔
لائیو اسٹاک کے شعبے میں قومی ہرڈ ٹرانسفارمیشن پروگرام کے تحت برازیل سے دودھ اور گوشت کی 9 اعلیٰ نسلوں کے مویشی درآمد کیے گئے۔
ان اعلیٰ نسلوں کے فروغ کے لیے جدید ان وٹرو فرٹیلائزیشن لیبارٹری، سیمین پروڈکشن یونٹ اور ایمبریو ٹرانسفر سہولیات قائم کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیے: پنجاب حکومت کا شرمپ فارمنگ کا منصوبہ کیا ہے، لوگ کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
اب تک اس منصوبے سے 25 ہزار سے زائد کاشتکار مستفید ہو چکے ہیں۔ فون گرو نے 73 ہزار سے زائد سیمین اسٹراز تقسیم کیے، 860 سے زائد ایمبریوز کامیابی سے سروگیٹ گائیوں میں منتقل کیے جبکہ 750 سے زائد اعلیٰ جینیاتی خصوصیات کے حامل بچھڑے پیدا کیے جا چکے ہیں۔
فون گرو نہ صرف فارم اور فیلڈ کی سطح پر تولیدی خدمات فراہم کر رہا ہے بلکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں کسانوں کو سیمین اور ایمبریوز مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد اعلیٰ نسل کے دودھ اور گوشت دینے والے مویشیوں کا فروغ، لائیو اسٹاک کی پیداوار میں اضافہ، کسانوں کی آمدنی میں بہتری، غذائی تحفظ کا استحکام اور قومی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔
پاکستان کی معیشت میں زراعت اور لائیو اسٹاک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فون گرو فارم جدید ٹیکنالوجی، اختراعی طریقہ کار، مؤثر انتظام اور مضبوط شراکت داری کے ذریعے کسانوں کو زیادہ پیداوار، بہتر منافع اور پائیدار زرعی نظام اپنانے کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔
مزید پڑھیے: پنجاب کا بڑا معاشی اقدام، مویشی اور گوشت کی برآمدات کا آغاز
ادارہ دیہی خوشحالی، قومی غذائی تحفظ اور ایک مضبوط و خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنی خدمات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔












