فیفا صدر جیانی انفینٹینو کی مشکلات بڑھ گئیں، ورلڈ کپ نجی سرمایہ کاروں کو دینے کے منصوبے پر بغاوت کا سامنا

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کو ورلڈ کپ کے تجارتی معاملات سے متعلق متنازع منصوبے کے باعث عالمی فٹبال برادری میں بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا ہے اور ان کی صدارت برقرار رکھنے کے امکانات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کے مطابق یورپی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ اگر انفینٹینو ورلڈ کپ کے ایک حصے کی ملکیت نجی سرمایہ کاروں کو دینے کے منصوبے پر آگے بڑھے تو وہ فیفا کے بڑے مقابلوں کے بائیکاٹ پر غور کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 211 رکن فٹبال ایسوسی ایشنز میں سے کم از کم 90 اب انفینٹینو کے منصوبے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ شمالی، وسطی امریکا اور کیریبین فٹبال کنفیڈریشن کیریبین فٹبال کنفیڈریشن بھی یورپی فٹبال یونین  کے ساتھ شامل ہو گئی ہے اور اس نے ورلڈ کپ کی ملکیت نجی اداروں کو منتقل کرنے کی مخالفت کی ہے۔

عالمی فٹبال حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ تازہ تنازع کے بعد انفینٹینو کے لیے اپنی پوزیشن برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ فیفا کے رکن ممالک میں کھلے عام مخالفت بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے نجی سرمایہ کاری کا منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کریں گے، یوئیفا کی فیفا کو وارننگ

ذرائع کے مطابق کیریبین فٹبال کنفیڈریشن کے 41 رکن ممالک میں سے اکثریت کا انفینٹینو پر اعتماد کم ہو چکا ہے یا وہ اعتماد کھو چکے ہیں۔ یہ معاملہ تنظیم کے ہنگامی آن لائن اجلاس میں بھی زیر بحث آیا۔

اگر انفینٹینو کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو کینیڈا سے تعلق رکھنے والے کیریبین فٹبال کنفیڈریشن سربراہ وکٹر مونٹاگلیانی ممکنہ جانشینوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ فیفا صدر کو ہٹانے کے لیے کون سا آئینی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ فیفا کے سابق صدر سیپ بلاٹر نے بھی 2015 میں اسکینڈل کے بعد استعفیٰ دیا تھا۔

یورپی فٹبال کا سخت ردعمل

یورپی فٹبال یونین  اور اس کی 55 رکن قومی تنظیموں نے مشترکہ بیان میں فیفا کے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ورلڈ کپ اور دیگر فیفا مقابلوں کی ملکیت میں نجی سرمایہ کاری کے ماڈل کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

یوئیفا نے کہا کہ یہ ماڈل عالمی فٹبال میں کوئی جگہ نہیں رکھتا اور یورپ کا مؤقف واضح ہے کہ وہ ایسے منصوبے کو قانونی یا اخلاقی جواز فراہم نہیں کرے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جب تک یہ تجاویز مکمل طور پر واپس نہیں لی جاتیں اور فیفا کی جانب سے مستقبل میں مقابلوں یا انتظامی امور کو نجی ملکیت سے محفوظ رکھنے کی ضمانت نہیں دی جاتی، یورپی قومی ٹیمیں کسی فیفا مقابلے میں شرکت نہیں کریں گی۔

انگلش فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی یورپی ساتھی تنظیموں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیفا کے منصوبے کی مخالفت کرتی ہے، کیونکہ “فیفا ورلڈ کپ فٹبال کا اثاثہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔”

کیریبین فٹبال کنفیڈریشن نے بھی منصوبہ مسترد کردیا

یورپی مخالفت کے بعد کیریبین فٹبال کنفیڈریشن نے بھی ہنگامی اجلاس میں فیفا کے مجوزہ منصوبے کو مسترد کر دیا، تاہم اس نے ورلڈ کپ بائیکاٹ کا اعلان نہیں کیا۔

تنظیم نے کہا کہ اسے منصوبے کی منظوری کے طریقہ کار، محدود وقت میں فیصلے کے دباؤ اور فیفا کے متعلقہ اداروں کی منظوری نہ لینے پر شدید تحفظات ہیں۔

کیریبین فٹبال کنفیڈریشن نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ تاریخ کے سب سے زیادہ منافع بخش ورلڈ کپ کے بعد نئے پروگراموں کے لیے نجی سرمایہ کاری کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔

فیفا کے توسیعی منصوبے اور مالی اہداف

رپورٹ کے مطابق فیفا نے اپنی 211 رکن تنظیموں کو 19 ستمبر تک منصوبے میں شامل ہونے یا آئندہ 12 برسوں کے دوران 86 کروڑ ڈالر کی ممکنہ مالی سہولت سے محروم ہونے کا پیغام دیا ہے۔

فیفا کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبہ مقابلوں کے انتظام اور مالیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہے، تاہم پیش کردہ دستاویزات میں ’بڑھتے ہوئے ٹورنامنٹس کے پورٹ فولیو‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔

انفینٹینو ورلڈ کپ میں شریک ٹیموں کی تعداد 48 سے بڑھا کر 64 کرنے کے خواہاں ہیں، جبکہ رواں ماہ اسپین کی فتح کے ساتھ ختم ہونے والے ورلڈ کپ میں ہی ٹیموں کی تعداد میں 16 کا اضافہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے فیفا کا اربوں ڈالرز کمانے کا نیا متنازع منصوبہ، یوروپی فٹ بال ایسوسی ایشن  کا شدید ردِعمل

فیفا کے مطابق 2023 سے 2026 کے دوران تقریباً 200 مقابلوں کے مقابلے میں آئندہ 4 برسوں میں یہ تعداد 450 تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

فیفا کا کہنا ہے کہ عالمی فٹبال کے مقابلے امریکی کھیلوں اور بعض ملکی لیگز کے مقابلے میں کم آمدنی پیدا کر رہے ہیں۔ ادارے کے مطابق فیفا کی سالانہ آمدنی تقریباً 3.6 ارب ڈالر ہے، جبکہ انگلش پریمیئر لیگ اور اس سے وابستہ کلب 9 ارب ڈالر سے زیادہ کماتے ہیں۔

یورپی لیگز اور پریمیئر لیگ نے بھی حالیہ دنوں میں مشترکہ بیان میں خبردار کیا تھا کہ ورلڈ کپ کو فروخت کے لیے پیش نہیں کیا جا سکتا اور اسے کسی فرد کے ’نجی سرمایہ کاری اثاثے‘ میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کنگنا رناوت نے بھارت کی جین زی جنریشن کو ’گٹر جنریشن‘ کیوں کہا؟

’پاکستان کے لیے اپنی بہترین کارکردگی دکھاؤں گا‘ ارشد ندیم کی فائنل کے لیے دعاؤں کی اپیل

خواجہ آصف کا علیم خان کو استعفیٰ دینے اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا مشورہ

آج اور کل ملک بھر میں شدید بارشوں کا امکان، شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

آئی سی سی کا ورلڈ کپ 2027 کے لیے نیا 3 مرحلوں پر مشتمل فارمیٹ کیا ہے؟

ویڈیو

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فون گرو فارم خانیوال: جدید زراعت اور لائیو اسٹاک کی ترقی کا ایک مثالی ماڈل

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘