ماحولیاتی تحفظ کے لیے سرگرم تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے منصوبے زمین کے ماحول کو شدید آلودگی سے دوچار کر سکتے ہیں اور اگر ان منصوبوں پر روک نہ لگائی گئی تو اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے پھیلاؤ کے دوران نیویارک کا بڑا فیصلہ، بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر ایک سالہ پابندی
امریکی ماحولیاتی تنظیموں پبلک ایمپلائز فار انوائرنمنٹل ریسپانسبلٹی، ارتھ جسٹس اور ڈارک اسکائی انٹرنیشنل نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن میں درخواست دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خلائی ڈیٹا سینٹرز سے متعلق تمام منظوریوں کو عارضی طور پر روک دیا جائے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسپیس ایکس، بلو اوریجن اور دیگر کمپنیوں کی جانب سے خلا میں کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر قائم کرنے کے منصوبے ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتے ہیں اس لیے قومی ماحولیاتی پالیسی ایکٹ کے تحت ان کے ماحولیاتی اثرات کا مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے۔
ماحول کو کس طرح نقصان پہنچ سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق جب سیٹلائٹس اور خلائی گاڑیاں زمین کے ماحول میں واپس داخل ہو کر جلتی ہیں تو ان سے کالا کاربن (سُوٹ)، ایلومینیم آکسائیڈ، نایاب دھاتوں کے ذرات اور دیگر کیمیائی مادے فضا میں خارج ہوتے ہیں جو بالائی فضائی تہہ (اسٹریٹوسفیئر) میں جمع ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: ایلون مسک کا زمین پر بجلی اور پانی کی قلت سے بچنے کے لیے ڈیٹا سینٹرز خلا میں منتقل کرنے کا اعلان
سنہ 2023 میں امریکی ادارے نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے تعاون سے کی گئی ایک تحقیق میں اسٹریٹوسفیئر میں سلفیورک ایسڈ کے ذرات کے ساتھ دھاتی ذرات کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا۔ سائنس دان اس تہہ کو زمین کی قدرتی ’سن اسکرین‘ قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ سورج کی نقصان دہ شعاعوں کا کچھ حصہ واپس خلا میں منعکس کرتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ خلائی جہازوں سے خارج ہونے والی دھاتیں اس حساس نظام پر کیا اثرات ڈالتی ہیں اس بارے میں ابھی بہت کم معلومات موجود ہیں۔
اوزون تہہ اور موسمیاتی نظام کو خطرہ
ماحولیاتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو اس سے اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں زمین پر پہنچنے والی بالائے بنفشی شعاعوں میں اضافہ ہوگا اور موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ بحران میں مزید شدت آ سکتی ہے۔
تنظیموں نے یہ بھی کہا کہ لاکھوں سیٹلائٹس سے پیدا ہونے والی روشنی کی آلودگی جنگلی حیات اور ماحولیاتی نظام کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے، جبکہ بعض تحقیقات میں جگنوؤں اور دیگر حشرات کی آبادی میں کمی کو بھی روشنی کی آلودگی سے جوڑا گیا ہے۔
سیٹلائٹس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2015 میں زمین کے گرد تقریباً 1,400 فعال سیٹلائٹس موجود تھے جبکہ اب ان کی تعداد بڑھ کر تقریباً 15 ہزار ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں: بجلی کی بچت: میٹا کا اپنے ڈیٹا سینٹرز شمسی توانائی سے چلانے کا منصوبہ
ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے دس برسوں میں یہ تعداد ایک لاکھ تک پہنچ سکتی ہے جس میں خلائی ڈیٹا سینٹرز کے لیے مجوزہ سیٹلائٹس شامل نہیں ہیں۔
فی الحال اسپیس ایکس کے اسٹارلنک اور ایمیزون کے براڈ بینڈ منصوبوں کے تحت تقریباً 10 ہزار سیٹلائٹس مدار میں موجود ہیں، جو خلائی آلودگی کا بڑا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
دوسری جانب کاؤ بوائے اسپیس کارپوریشن، جسے رابن ہڈ کے شریک چیف ایگزیکٹو ولاد تینیف نے قائم کیا، 2028 سے 20 ہزار سیٹلائٹس پر مشتمل نظام لانچ کرنے کے لیے ایف سی سی سے منظوری کی خواہاں ہے۔
مزید وضاحت کا مطالبہ
اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ اس کے مجوزہ خلائی ڈیٹا سینٹرز انسانیت کے کئی سیاروں پر مستقبل کو ممکن بنانے میں مدد دیں گے تاہم ماحولیاتی تنظیموں کے مطابق کمپنی نے اپنی درخواست میں ماحول کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی محدود معلومات فراہم کی ہیں۔
امریکی ماہرِ خلائی پالیسی اسٹیو وولز نے خبردار کیا کہ اگرچہ یہ خلائی آلات زمین کی فضا میں داخل ہو کر جل جاتے ہیں لیکن ان سے خارج ہونے والے مضر ذرات کو فضا میں جمع ہونے دینا کسی صنعتی چمنی سے نکلنے والے دھویں سے کم خطرناک نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز جدید جنگ کا نیا محاذ بن گئے
درخواست گزار تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب تک کسی بھی کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر مستقبل میں دس لاکھ سے زائد سیٹلائٹس زمین کے گرد گردش کریں، آپس میں ٹکرائیں یا جل کر واپس فضا میں داخل ہوں تو ان سے پیدا ہونے والے مجموعی ماحولیاتی نقصان کو کیسے روکا جائے گا۔














