الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں سے متعلق پیشرفت رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں حلقہ بندیوں کا باقاعدہ آغاز یکم اگست 2026 سے ہوگا، جبکہ پنجاب میں حتمی حلقہ بندیاں 17 اگست 2026 کو شائع کی جائیں گی۔ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی قانون میں حالیہ ترامیم کے باعث بعض اضلاع میں حلقہ بندیوں کا عمل متاثر ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن کمیشن نے اہم ہدایات جاری کردیں
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ حلقہ بندی کمیٹی کی تربیت مکمل ہو چکی ہے اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نقشہ جات فراہم کر چکے ہیں۔ حلقہ بندیوں کا عمل یکم اگست سے شروع ہو کر 13 اکتوبر 2026 تک مکمل ہوگا۔
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے لیے لوکل گورنمنٹ کنڈکٹ آف الیکشن رولز کے مسودے پر اپنی سفارشات وزارتِ داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آباد کو بھجوا دی ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ قواعد فوری طور پر شائع کیے جائیں تاکہ انتخابی مواد کی چھپائی اور دیگر انتظامات بروقت مکمل کیے جاسکیں۔
پریس ریلیز کے مطابق پنجاب میں ابتدائی حلقہ بندیوں پر اعتراضات کی سماعت مکمل ہو چکی ہے۔ حلقہ بندی اتھارٹیز 7 اگست 2026 تک اپنے فیصلوں سے حلقہ بندی کمیٹی کو آگاہ کریں گی، جبکہ حتمی حلقہ بندیاں 17 اگست 2026 کو جاری کی جائیں گی۔ اس کے بعد بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کے تعین کے لیے حکومت پنجاب سے مشاورت کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ وہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن تیار، صوبائی حکومت سے مشاورت جاری
خیبرپختونخوا کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے بتایا کہ 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ مزید 7 اضلاع میں یہ عمل جاری ہے۔ ان 23 اضلاع میں انتخابات کی تاریخ کے تعین کے لیے 14 جولائی 2026 کو چیف سیکریٹری اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ خیبرپختونخوا کے ساتھ مشاورتی اجلاس ہوا، تاہم صوبائی حکومت کی درخواست پر اسے 15 دن کی مہلت دی گئی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اس دوران صوبائی حکومت نے 21 جولائی 2026 کو لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے ویلج کونسل اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی کی حد تبدیل کر دی، تاہم قانون کے 9ویں شیڈول میں نشستوں کی تعداد تبدیل نہیں کی گئی، جس کے باعث قانونی ابہام پیدا ہوا اور متعلقہ اضلاع میں حلقہ بندیاں ممکن نہ رہیں۔
الیکشن کمیشن نے بتایا کہ اس معاملے سے صوبائی حکومت کو آگاہ کیا گیا، جس کے بعد چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نے 28 جولائی 2026 کو کمیشن کو مطلع کیا کہ حکومت 9ویں شیڈول میں بھی ترمیم کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے 3 ہفتوں کی مہلت طلب کی، جو الیکشن کمیشن نے منظور کرلی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود وہ صوبے میں انتخابات کرانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم عین وقت پر قانون میں ترمیم کے باعث انتخابی عمل متاثر ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: بلدیاتی انتخابات میں تاخیر: الیکشن کمیشن کا خیبر پختونخوا اور اسلام آباد حکام کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ
الیکشن کمیشن نے یاد دلایا کہ آئین کے آرٹیکل 219(d)، آرٹیکل 140-A اور الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 219 کے تحت وہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر انتخابات کرانے کا پابند ہے۔ کمیشن نے کہا کہ وہ متعدد بار حلقہ بندیاں مکمل کر چکا اور انتخابی شیڈول بھی جاری کیے، لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں اکثر حلقہ بندیوں کی تکمیل یا انتخابی شیڈول کے دوران بلدیاتی قوانین میں ترامیم کردیتی ہیں۔
پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت کو تجویز دی تھی کہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد بلدیاتی قوانین یا اضلاع اور مقامی علاقوں کی حدود میں تبدیلی نہ کی جائے، جبکہ اگر نیا بلدیاتی نظام متعارف کرانا ہو تو اس کی قانون سازی بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے سے کم از کم ایک سال پہلے مکمل کی جائے تاکہ انتخابات بروقت کرائے جاسکیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اس تجویز پر عمل نہیں کیا گیا، جبکہ وزارتِ پارلیمانی امور نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور اس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ تاہم الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف بروقت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا تھا تاکہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرسکے۔














