’عینک والا جن‘ کے مصنف حفیظ طاہر کا پی ٹی وی کی اے آئی فلم پر احتجاج، اجازت نہ لینے کا الزام

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے مقبول ڈراما سیریل ’عینک والا جن‘ کے مصنف حفیظ طاہر نے پی ٹی وی کی جانب سے تیار کی گئی مصنوعی ذہانت پر مبنی فلم پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم بنانے سے پہلے نہ ان سے اجازت لی گئی اور نہ ہی انہیں اس منصوبے کا حصہ بنایا گیا۔

حفیظ طاہر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو میں فلم کے ہدایت کار اور لکھاری فرحان خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’کھلی چوری‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: عینک والا جن ڈرامہ ٹیلی کاسٹ ہونے سے پہلے بلاول اور بختاور کیسے دیکھ لیتے تھے؟

انہوں نے کہا کہ ’عینک والا جن‘ جو 1993 سے 1996 تک پی ٹی وی پر نشر ہونے والا مقبول ڈراما تھا، ان کا تصور، تخلیق اور خیال تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے اس کا نام رکھا، اسے لکھا، ہدایت کاری کی اور ایک معیاری ڈراما تیار کرکے پی ٹی وی کو دیا، جس سے ادارے نے مالی فائدہ حاصل کیا۔

حفیظ طاہر نے کہا کہ آج بھی پی ٹی وی کے یوٹیوب چینل پر اس ڈرامے سے لاکھوں روپے آمدن حاصل ہورہی ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Hafeez Tahir (@iamhafeeztahir)

انہوں نے کہا کہ نئی فلم بنانے والے فرحان خان نے ان سے اجازت نہیں لی اور نہ ہی پی ٹی وی نے انہیں اس پروڈکشن میں شامل کرنے کے لیے رابطہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیٹ فلیکس کے مقابلے میں پی ٹی وی فلیکس: وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے افتتاح کر دیا

حفیظ طاہر نے الزام لگایا کہ ایک ناتجربہ کار شخص سے مصنوعی ذہانت پر مبنی فلم بنوائی گئی، جس سے ان کے بقول ان کے مشہور تخلیقی خیال کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ فلم میں کرداروں کے حلیے اور آوازوں میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی کردار ’نستور جن‘ کو ڈاکو جیسا دکھایا گیا ہے، جبکہ ’حامون جادوگر‘ کے چہرے اور آواز کو بھی خراب کردیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا موسیقی کا حصہ بھی معیار کے مطابق نہیں، جس سے ایک خوبصورت خیال متاثر ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اداکار محمد احمد کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بعد عطا اللہ تارڑ کی نوجوان فنکاروں کے لیے مینٹورشپ پروگرام کی تجویز

حفیظ طاہر نے کہا کہ ایک شاندار اور خوبصورت تخلیق کو خراب کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ویڈیو کے اختتام پر سوال اٹھایا کہ آیا وہ صرف افسوس کرکے خاموش رہیں یا اس معاملے پر قانونی راستہ اختیار کریں۔

واضح رہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ’عینک والا جن‘ فلم 24 جولائی کو سینما گھروں میں پیش کی گئی تھی، جسے فلمی ویب سائٹ آئی ایم ڈی بی پر ایشیا کی پہلی مکمل مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فیچر فلم قرار دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp