پاکستان نے دنیا بھر کے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی امن، کثیرالجہتی نظام کے استحکام اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں فعال کردار ادا کریں تاکہ دنیا کو درپیش مشترکہ چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ’مستقبل جس کے ہم خواہاں ہیں: نوجوان رہنماؤں کے لیے عالمی اقدام‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، اس لیے نوجوان ملک کے روشن، پرامن اور جامع مستقبل کی تعمیر میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ میں اصلاحات پر فیصلے رکن ممالک کی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے کیے جائیں، پاکستان
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا قیام آنے والی نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے عمل میں آیا تھا اور امن، انسانی حقوق اور پائیدار ترقی اس کے بنیادی ستون ہیں۔
ان کے مطابق حقیقی امن صرف جنگ کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ انصاف، مکالمے، باہمی احترام اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں پر عمل درآمد سے ہی قائم ہوتا ہے۔
Pakistan Calls on Youth to Champion Peace and Reinforce Multilateralism
– Our Press Release pic.twitter.com/MpUz9ck7y3
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) August 1, 2026
پاکستانی مندوب نے کہا کہ دنیا اس وقت مسلح تنازعات، غیر ملکی قبضوں اور بڑھتی ہوئی عالمی تقسیم جیسے مسائل سے دوچار ہے، جس کے باعث مؤثر کثیرالجہتی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک موجودہ عالمی چیلنجز کا تنہا مقابلہ نہیں کر سکتا، اسی لیے پاکستان پرامن بقائے باہمی، خودمختار ریاستوں کی برابری، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیانات مسترد، پاکستان کا اقوام متحدہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ
انہوں نے سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد 2788 (2025) کی متفقہ منظوری کو پاکستان کی فعال سفارت کاری کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے مغربی ایشیا کے حالیہ بحران کے دوران پاکستان کے تحمل، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے مؤقف کا بھی ذکر کیا۔
مزید پڑھیں: اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
عاصم افتخار احمد نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیمی اداروں، مقامی برادریوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر امن، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دیں، غلط معلومات اور عدم برداشت کا مقابلہ کریں اور مختلف تہذیبوں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان ہی کل کے سفارت کار، پالیسی ساز اور رہنما ہیں، جو بین الاقوامی قانون، مکالمے اور عالمی یکجہتی کو فروغ دے کر ایک زیادہ پرامن، منصفانہ اور جامع عالمی نظام کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تقسیم کے بجائے تعاون، تصادم کے بجائے مکالمہ اور خوف کے بجائے امید کا راستہ اختیار کریں۔












