وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق بیان کے بعد وی نیوز نے کراچی کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی رائے جاننے کے لیے عوامی انٹرویوز کیے۔
گفتگو میں شریک بیشتر شہریوں نے اس بات سے اتفاق کیاکہ پاکستان، خصوصاً سندھ جیسے بڑے صوبوں میں آبادی اور انتظامی بوجھ کے پیش نظر نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ نظام حکمرانی میں بنیادی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
مزید پڑھیں: ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی ضرورت، قومی سطح پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے، ایم کیو ایم
شہریوں کا کہنا تھا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر اور معاشی مرکز ہونے کے باوجود متعدد انتظامی مسائل سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی، شہری سہولیات پر دباؤ اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انتظامی ڈھانچے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
انٹرویوز میں شریک کئی افراد نے رائے دی کہ اگر نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جاتے ہیں تو اس سے حکومتی معاملات زیادہ مؤثر انداز میں چلائے جا سکتے ہیں، عوامی خدمات کی فراہمی بہتر ہو سکتی ہے اور مقامی سطح پر فیصلہ سازی میں بھی بہتری آئے گی۔
ان کے مطابق بڑے صوبوں کو انتظامی لحاظ سے چھوٹے یونٹس میں تقسیم کرنے سے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔
تاہم شہریوں نے واضح کیاکہ صرف نئے صوبے بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ طرز حکمرانی، احتساب، شفافیت اور سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری نہ آئی تو نئی انتظامی تقسیم بھی عوام کی توقعات پوری نہیں کر سکے گی۔
ان کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، مضبوط بلدیاتی نظام اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو بھی یکساں اہمیت دینا ہوگی۔
کئی شہریوں نے کہاکہ کراچی کے مسائل گزشتہ کئی برسوں سے حل طلب ہیں، اس لیے اب صرف انتظامی بحث سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ان کا مؤقف تھا کہ نئے صوبوں کا قیام اور بہتر گورننس ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، اور دونوں پر بیک وقت پیشرفت ہی عوام کے مفاد میں ہوگی۔
مزید پڑھیں: نئے صوبے گورننس بہتر بنانے کے لیے ضروری، لسانی نہیں انتظامی بنیاد پر بننے چاہییں: بیرسٹر عقیل
وی نیوز کے عوامی انٹرویوز سے مجموعی طور پر یہ تاثر سامنے آیا کہ کراچی کے شہری نئے صوبوں کے قیام کو انتظامی ضرورت سمجھتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک اس اقدام کی کامیابی کا انحصار بہتر طرزِ حکمرانی، مؤثر اداروں، شفاف نظام اور عوامی مسائل کے بروقت حل پر ہوگا۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ انتظامی اصلاحات کا اصل مقصد عوام کو بہتر سہولیات اور مؤثر حکمرانی فراہم کرنا ہونا چاہیے۔











