ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کی بطور عوامی کمپنی پہلی سہ ماہی آمدنی رپورٹ سے قبل سرمایہ کاروں نے منافع اور مالی نتائج کے بجائے کئی غیر معمولی اور دلچسپ سوالات اٹھا دیے۔ ان میں سب سے نمایاں سوال یہ تھا کہ آیا کمپنی اپنے راکٹ کو گلابی رنگ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اسپیس ایکس منگل کو مارکیٹ بند ہونے کے بعد بطور عوامی کمپنی اپنی پہلی مالیاتی رپورٹ جاری کرے گی۔ اس موقع پر کمپنی نے ٹیسلا کی طرز پر ایک آن لائن پورٹل قائم کیا ہے، جہاں سرمایہ کار سوالات جمع کرا سکتے ہیں اور انہیں ووٹ بھی دے سکتے ہیں۔ توقع ہے کہ آمدنی رپورٹ کے بعد ہونے والی کال میں ایلون مسک بھی شریک ہوں گے۔
سرمایہ کاروں کی جانب سے سب سے زیادہ مقبول سوالات میں ناسا کے آرٹیمس مون پروگرام کے لیے تیار کیے جانے والے اسٹار شپ ہیومن لینڈنگ سسٹم کی مزید ویڈیوز جاری کرنے کا مطالبہ شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیں:اسپیس ایکس کا اسٹار شپ مشن آخری لمحات میں موخر، وجہ کیا بنی؟
ایک اور دلچسپ سوال یہ تھا کہ آیا اسپیس ایکس کے حال ہی میں متعارف کرائے گئے شیبا اینو نسل کے کتے پر مبنی میسکاٹ ’ایسٹروئیڈ‘، جس کا 35 ڈالر کا نرم کھلونا بھی فروخت کیا جا رہا ہے، کو تعلیمی سرگرمیوں اور بچوں کے فلاحی منصوبوں میں زیادہ کردار دیا جائے گا۔
سرمایہ کاروں میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا سوال یہ تھا کہ ’کیا اسپیس ایکس اپنے راکٹ کو گلابی رنگ سے پینٹ کرے گی؟‘، جس نے کمپنی کے مالیاتی نتائج سے زیادہ دلچسپی حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اس بار سوالات کے لیے اپنا الگ پورٹل تیار کیا ہے، جو مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ گروک کی مدد سے چلایا جا رہا ہے اور اسے صرف شیئر ہولڈرز تک محدود رکھنے کے بجائے عام صارفین کے لیے بھی کھول دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اسپیس ایکس کی کاروباری حکمت عملی، مستقبل کی آمدنی اور مالی کارکردگی سے متعلق سوالات کو نسبتاً کم توجہ ملی۔ جن سوالات کو ووٹ ملے بھی، ان میں زیادہ تر مدار میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے قیام اور دیگر تکنیکی منصوبوں سے متعلق تھے، نہ کہ مالیاتی اشاریوں سے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حالیہ ابتدائی عوامی شیئر فروخت کے بعد کمپنی کے حصص کی قیمت اپنے بلند ترین انٹرا ڈے سطح سے نصف سے زیادہ گر چکی ہے، جس کی وجہ منافع وصولی اور اسٹار شپ پروگرام کی ترقی سے متعلق خدشات بتائے جا رہے ہیں۔
ایک سرمایہ کار نے ایلون مسک کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بھی سوال اٹھایا کہ اگر مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی وجہ سے پیسے کی اہمیت کم ہو جائے گی، تو پھر طویل مدت کے لیے کمپنی کے حصص خریدنے کی منطق کیا ہوگی۔












