مرکزی ملزم بری ہو چکا، خاتون کی بریت کے خلاف اپیل کیوں؟ جسٹس ہاشم کاکڑ کا استفسار

پیر 3 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے مبینہ ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں خاتون ملزمہ عائشہ شعیب کی بریت کے خلاف دائر سرکاری اپیل خارج کر دی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ کیا یہ وہ ڈگریوں والا کیس ہے، جس پر ملزمہ کے وکیل انور منصور نے بتایا کہ یہ ایگزیکٹ سے متعلق مقدمہ ہے اور اس میں تمام ملزمان بری ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: فوت شدہ ملازم کی پنشن اور مراعات پر صرف بیوہ یا نامزد شخص کا حق

وکیل انور منصور نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے موکلان کی بریت کے خلاف دائر تمام اپیلیں زائدالمعیاد ہیں۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مدعی مقدمہ نے بھی ٹرائل کورٹ میں شواہد نہ ہونے کا اعتراف کیا تھا، اس لیے بریت کا فیصلہ درست تھا۔

سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ جس کو مرکزی ملزم بنایا گیا وہ بری ہو چکا ہے، پھر خاتون کی بریت کے خلاف اپیل کیوں کی گئی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر مکمل طور پر فعال، سائلین کو 23 ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی

اس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی ملزم کی بریت کے خلاف بھی اپیل زیر التوا ہے۔

تاہم وکیل انور منصور نے دوبارہ مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی تمام اپیلیں مقررہ قانونی مدت گزرنے کے بعد دائر کی گئی ہیں، اس لیے وہ قابل سماعت نہیں۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے خاتون عائشہ شعیب کی بریت کے خلاف حکومت کی اپیل خارج کر دی، جس کے نتیجے میں ان کی بریت کا فیصلہ برقرار رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp