مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ نے کولگام میں مزدوروں کی ہلاکت کے واقعے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کو سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے، مودی حکومت قابض کشمیر میں ہونیوالی دہشتگردی کی ذمہ دار ہے۔
مزید پڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں ذہنی امراض کی صورتحال تشویشناک شکل اختیار کرگئی، بھارتی حکومت کا اعتراف
بھارتی میڈیا کے مطابق فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر وادی میں دہشتگردی ختم ہو چکی ہے تو بے گناہ مزدوروں کو قتل کرنے والے کون ہیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سرحد پر سخت نگرانی موجود ہے تو حملہ آور کہاں سے آئے؟
کولگام واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، فاروق عبداللہ کا مطالبہ
بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے کولگام میں مزدوروں کی ہلاکت کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کو سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔@KulAalam pic.twitter.com/WAjgUx4r5U— Media Talk (@mediatalk922) August 3, 2026
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑنے کے بعد ایسے واقعات تشویش کا باعث ہیں۔ ان کے بقول، جنتر منتر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں احتجاج کے فوراً بعد کولگام کا واقعہ پیش آیا، جس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
مزید پڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
فاروق عبداللہ نے کہا کہ واقعے کی جانبدارانہ تشریح کرنے کے بجائے حقائق سامنے لائے جائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔














