وفاقی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ ملک میں بہتر طرز حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر غور ہونا چاہیے، جبکہ پالیسیوں پر عملدرآمد کرنے والی بیوروکریسی کو بھی احتساب کے عمل سے گزرنا چاہیے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہاکہ ہر مسئلے کی ذمہ داری صرف سیاستدانوں پر عائد نہیں کی جا سکتی۔
مزید پڑھیں: جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی
ان کے بقول حکومت اور منتخب نمائندے پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد کی ذمہ داری بیوروکریسی کی ہوتی ہے، اس لیے بیوروکریسی کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔
انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جانے چاہییں تاکہ گورننس کا نظام مزید مؤثر اور بہتر بنایا جا سکے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ نے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس معاملے کا فیصلہ پارلیمان نے کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ سندھ کے عوام نئے صوبوں کے قیام کے تصور کو مسترد کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نئے صوبوں کے قیام کی بات کرتے ہوئے موجودہ نظام کو ناکام قرار دیا تھا، جس پر بحث ہورہی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور جواب بھی دیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں: محسن نقوی کی گفتگو اور انداز گفتگو پر اعتراض مگر نواز شریف نے جواب دینے سے منع کردیا، رانا ثنااللہ
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ محسن نقوی کی گفتگو اور انداز گفتگو پر اعتراض ہے مگر نواز شریف نے انہیں جواب دینے سے منع کردیا ہے۔














