مصنوعی ذہانت کی مدد سے والد نے بیٹے کے لیے روبوٹک بازو بنا ڈالا

منگل 4 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 بھارت کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک والد نے مصنوعی ذہانت اور آن لائن ویڈیوز کی مدد سے اپنے بیٹے کے اسکول منصوبے کے لیے آواز سے چلنے والا روبوٹک بازو تیار کر لیا، حالانکہ انہیں روبوٹکس کا کوئی باقاعدہ تجربہ نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: چلی میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹس سے پتّے کا پہلا کامیاب آپریشن کیسے سرانجام پایا؟

رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ اس وقت شروع ہوا جب ان کے بیٹے کو اسکول کے ٹیکنالوجی میلے کے لیے ایک عملی نمونہ تیار کرنے کی ذمہ داری ملی۔ والد نے ویڈیو رہنماؤں کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کے معاون “کلاڈ” سے کوڈنگ، پروگرامنگ اور خرابیوں کو دور کرنے میں مدد لی، جس کے بعد وہ ایک فعال آواز سے کنٹرول ہونے والا روبوٹک بازو بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

والد نے اپنی تفصیلات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کیں، جہاں ان کی پوسٹ تیزی سے مقبول ہوگئی۔ صارفین نے اس منصوبے کو اس بات کی مثال قرار دیا کہ مصنوعی ذہانت صرف کام آسان بنانے کے لیے نہیں بلکہ نئی مہارتیں سیکھنے اور عملی تجربات حاصل کرنے کے لیے بھی مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے مشکل پروگرامنگ کو سمجھنے، غلطیوں کی نشاندہی کرنے اور حل تجویز کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ یوٹیوب نے روبوٹک بازو کی تیاری کے عملی مراحل سیکھنے میں مدد فراہم کی۔

یہ بھی پڑھیں: لنڈی کوتل میں مصنوعی اعضا کی مفت فراہمی، سینکڑوں افراد کے لیے نئی زندگی

یہ واقعہ اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور مفت آن لائن تعلیمی وسائل کی مدد سے عام افراد بھی پیچیدہ سائنسی اور انجینئرنگ منصوبے مکمل کرسکتے ہیں، چاہے ان کے پاس اس شعبے کا پیشہ ورانہ تجربہ موجود نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp