بھارت کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک والد نے مصنوعی ذہانت اور آن لائن ویڈیوز کی مدد سے اپنے بیٹے کے اسکول منصوبے کے لیے آواز سے چلنے والا روبوٹک بازو تیار کر لیا، حالانکہ انہیں روبوٹکس کا کوئی باقاعدہ تجربہ نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چلی میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹس سے پتّے کا پہلا کامیاب آپریشن کیسے سرانجام پایا؟
رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ اس وقت شروع ہوا جب ان کے بیٹے کو اسکول کے ٹیکنالوجی میلے کے لیے ایک عملی نمونہ تیار کرنے کی ذمہ داری ملی۔ والد نے ویڈیو رہنماؤں کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کے معاون “کلاڈ” سے کوڈنگ، پروگرامنگ اور خرابیوں کو دور کرنے میں مدد لی، جس کے بعد وہ ایک فعال آواز سے کنٹرول ہونے والا روبوٹک بازو بنانے میں کامیاب ہو گئے۔
How Claude helped me work with my son
This Saturday, my son had a tech fair at school.
Last week, he came home and said,
“I want to build a robot.”
I felt that might be too ambitious for the time we had, so we decided to build a robotic arm that could move based on voice… pic.twitter.com/IK7NV0AbWZ— realhyderabad (@realhyderabad86) August 2, 2026
والد نے اپنی تفصیلات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کیں، جہاں ان کی پوسٹ تیزی سے مقبول ہوگئی۔ صارفین نے اس منصوبے کو اس بات کی مثال قرار دیا کہ مصنوعی ذہانت صرف کام آسان بنانے کے لیے نہیں بلکہ نئی مہارتیں سیکھنے اور عملی تجربات حاصل کرنے کے لیے بھی مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے مشکل پروگرامنگ کو سمجھنے، غلطیوں کی نشاندہی کرنے اور حل تجویز کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ یوٹیوب نے روبوٹک بازو کی تیاری کے عملی مراحل سیکھنے میں مدد فراہم کی۔
یہ بھی پڑھیں: لنڈی کوتل میں مصنوعی اعضا کی مفت فراہمی، سینکڑوں افراد کے لیے نئی زندگی
یہ واقعہ اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور مفت آن لائن تعلیمی وسائل کی مدد سے عام افراد بھی پیچیدہ سائنسی اور انجینئرنگ منصوبے مکمل کرسکتے ہیں، چاہے ان کے پاس اس شعبے کا پیشہ ورانہ تجربہ موجود نہ ہو۔













