یومِ استحصالِ کشمیر: سیاسی و عسکری قیادت کی کشمیریوں سے غیرمتزلزل یکجہتی، حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر پاکستان کی عسکری قیادت نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاکستان کی مسلح افواج نے کہا کہ کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت تسلیم شدہ اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔

مزید پڑھیں: یوم استحصالِ کشمیر: بھارت کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ریلی سے خطاب

بیان میں کہا گیا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کا مسلسل قبضہ، فوجی محاصرہ، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور علاقے کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں شدید تشویش کا باعث ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ایسے اقدامات، اشتعال انگیز بیانات اور جارحانہ طرزِ عمل نہ صرف خطے میں عدم استحکام کو بڑھاتے ہیں بلکہ انسانی المیوں میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔

عسکری قیادت نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ اور پرامن حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق نہیں نکالا جاتا۔

مزید پڑھیں:وہ وقت دور نہیں جب کشمیری عوام کو آزادی کا سورج نصیب ہوگا، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور عوام مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور کشمیری عوام کی جائز اور برحق جدوجہدِ آزادی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یومِ استحصالِ کشمیر منا رہے ہیں۔ یہ دن بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے اور اسے دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کرنے کے اقدام کے خلاف منایا جاتا ہے۔

دریں اثنا یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف، مسلح افواج کی قیادت اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے کشمیری عوام کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا پرامن، منصفانہ اور دیرپا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا اور ان کی آواز تمام علاقائی و بین الاقوامی فورمز پر بلند کرتا رہے گا۔

صدر آصف علی زرداری نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت میں ثابت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت تک ہر بین الاقوامی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا جب تک مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق نہیں ہو جاتا۔

صدر مملکت نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا نوٹس لے اور تنازع کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات کو سات سال گزر چکے ہیں، تاہم یہ اقدامات نہ تو جموں و کشمیر کی متنازعہ بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے عزم کو کمزور کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سات برسوں کے دوران لاکھوں کشمیری سخت پابندیوں، غیر یقینی صورتحال اور بنیادی حقوق سے محرومی کا سامنا کرتے رہے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ اپنے جائز حقِ خودارادیت کے لیے ثابت قدم ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے کشمیری عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی قربانیاں پوری پاکستانی قوم کے لیے حوصلے اور استقامت کی علامت ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ کشمیری عوام کو انصاف، امن اور کامیابی عطا فرمائے۔

یہ بھی پڑھیں:5 اگست 2019 کو بھارت نے کس طرح یکطرفہ طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کو ضم کیا؟

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کی یاد دلاتا ہے، جن کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سات برس گزرنے کے باوجود بھارت اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکا اور نہ ہی کشمیری عوام کی آزادی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دبا سکا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے اقدامات کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید خراب ہوئی، بنیادی آزادیوں پر قدغنیں لگائی گئیں، آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور کشمیری سیاسی قیادت، آزاد میڈیا اور شہری آزادیوں کو مسلسل دبایا جا رہا ہے، جو شدید تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے غیرقانونی اقدامات واپس لے، سخت قوانین کا خاتمہ کرے اور ایسا ماحول پیدا کرے جس میں کشمیری عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خودارادیت کا آزادانہ استعمال کر سکیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی راہ میں سب سے بڑا حل طلب تنازع ہے اور خطے میں پائیدار امن طاقت یا یکطرفہ اقدامات سے نہیں بلکہ کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کے منصفانہ حل سے ہی ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یوم استحصال کشمیر: 7 برس گزر گئے، مقبوضہ وادی آج بھی پابندیوں، گرفتاریوں اور غیر یقینی مستقبل کی تصویر

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر کشمیری عوام کے صبر، قربانی اور عزم کی یاد دلاتا ہے، جو مسلسل جبر کے باوجود اپنے حقِ خودارادیت کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے منافی تھے اور کوئی بھی یکطرفہ اقدام تاریخ یا کشمیریوں کی جدوجہد کو ختم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے مشروط ہے اور عالمی برادری کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ بلاول بھٹو نے دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ یومِ استحصالِ کشمیر یکجہتی اور عزم کے ساتھ منائیں اور کشمیری عوام کی آواز دنیا تک پہنچائیں۔

دریں اثنا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور ہر بین الاقوامی فورم پر ان کے حقوق کی آواز بلند کرتا رہے گا۔ اسحاق ڈار نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ، پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، کیونکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل سے ہی ممکن ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایئر انڈیا پائلٹ کا بھنگ ٹیسٹ مثبت، کیا یہی طیارے کے اچانک نیچے آنے کی وجہ تھی؟

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

طالبان قیادت کے بیانات پر پاکستان کا مؤقف، افغانستان میں دہشتگردی اور حکومتی طرزِ عمل پر سوالات

اسپین کے سیوٹا میں تارکین وطن میں متعدی امراض پھیلنے لگے

’میری شہرت اور کام کو نقصان نہ پہنچائیں‘،گووندا نے سونیتا کو خبردار کردیا

ویڈیو

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

پاک سعودی فضائی رابطوں میں نیا اضافہ، ریاض ایئر کی پہلی پرواز کی اسلام آباد لینڈنگ، واٹر سیلوٹ پیش

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سویٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

کالم / تجزیہ

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی