چین نے اپنے کم مدار (لو ارتھ آربٹ) انٹرنیٹ سیٹلائٹ نیٹ ورک کو مزید وسعت دیتے ہوئے لانگ مارچ 8 اے راکٹ کے ذریعے نئے سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں بھیج دیے۔ یہ مشن جنوبی صوبے ہینان کے تجارتی خلائی لانچ مرکز سے مکمل کیا گیا۔
چین نے منگل کے روز جنوبی جزیرہ نما صوبہ ہینان کے شہر وینچانگ میں واقع تجارتی خلائی لانچ مرکز سے کم مدار میں قائم کیے جانے والے انٹرنیٹ سیٹلائٹ نیٹ ورک (لو ارتھ آربٹ کانسٹیلیشن) کے 23ویں گروپ کو کامیابی سے خلا میں روانہ کر دیا۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق سیٹلائٹس کو مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 52 منٹ پر لانگ مارچ 8 اے (Long March-8A) کیریئر راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا۔
لانچ کے بعد تمام سیٹلائٹس کامیابی سے اپنے پہلے سے مقررہ مدار میں پہنچ گئے، جسے مشن کی مکمل کامیابی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مدار میں داخل
یہ مشن چین کے تیزی سے توسیع پاتے خلائی پروگرام اور کم مدار میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والے سیٹلائٹ نیٹ ورک کی تعمیر کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک کی خلائی مواصلاتی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا اور جدید سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات کو فروغ دینا ہے۔
لانگ مارچ 8 اے چین کے جدید کیریئر راکٹس میں شمار ہوتا ہے، جسے تجارتی اور سرکاری دونوں نوعیت کے خلائی مشنز کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ حالیہ کامیاب لانچ سے چین نے ایک بار پھر خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی پیشرفت کا مظاہرہ کیا ہے۔
چین حالیہ برسوں میں اپنے خلائی پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے، جس کے تحت مواصلاتی، نیویگیشن، موسمیاتی اور سائنسی تحقیق کے لیے بڑی تعداد میں سیٹلائٹس مدار میں بھیجے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں بھی اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔














