کیموتھراپی کے بعد کینسر کی واپسی کا ایک نیا راز بے نقاب

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے وائیسٹار انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ روزمرہ خوراک میں استعمال ہونے والی شکر یعنی فروکٹوز نہ صرف جسم کے لیے توانائی کا ذریعہ ہے بلکہ بعض جارحانہ اقسام کے کینسر، خصوصاً بیضہ دانی کے کینسر، کے پھیلاؤ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

محققین کے مطابق کیموتھراپی کے بعد زندہ بچ جانے والے کینسر خلیات مکمل طور پر غیر فعال نہیں ہوتے بلکہ وہ کیمیائی سگنلز خارج کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کینسر علاج میں اہم پیشرفت، 58 سالہ خاتون کو جدید مدافعتی تھراپی دی گئی

تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ خلیات فروکٹوز پیدا کرکے اسے خارج کرتے ہیں، جو علاج کے خلاف مزاحمت رکھنے والے قریبی کینسر خلیات کو متحرک کرتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی جگہ سے الگ ہو کر جسم کے دیگر حصوں تک پھیل سکتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ خوراک میں فروکٹوز کی زیادہ مقدار، خاص طور پر میٹھے مشروبات اور ہائی فروکٹوز کارن سیرپ میں موجود فروکٹوز، کیموتھراپی نہ ہونے کی صورت میں بھی کینسر کے پھیلاؤ کو فروغ دے سکتی ہے۔

سائنسدانوں نے جینیاتی تجزیے کے ذریعے دریافت کیا کہ فروکٹوز پڑوسی کینسر خلیات میں کولیسٹرول کی اندرونی پیداوار کو کم کر دیتا ہے، جس سے ان خلیات کے لیے اصل رسولی سے الگ ہو کر جسم میں پھیلنا آسان ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: کینسر کی مریضہ نے لاعلاج قرار دیے جانے کے 5 دن بعد شادی کر لی

اگرچہ یہ تحقیق خاص طور پر اووری کے کینسر پر کی گئی، تاہم محققین کا کہنا ہے کہ یہی حیاتیاتی طریقہ کار جسم کے دھڑ میں پھیلنے والے دیگر سرطان، جیسے لبلبے، بڑی آنت اور جگر کے کینسر، پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ تحقیق کینسر کے پھیلاؤ کے ایک نئے ممکنہ حیاتیاتی نظام کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم اس کے نتائج کی مزید تصدیق کے لیے اضافی تحقیق اور انسانی سطح پر مطالعات کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp