بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف طلبا کی تحریک کو 2 سال مکمل ہوگئے۔ یہ احتجاج صرف 61 دن میں ملک کی جدید تاریخ کی سب سے بڑی سیاسی تحریک میں تبدیل ہوگیا، جس کے نتیجے میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی 15 سالہ مسلسل حکومت کا خاتمہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق تحریک کا آغاز 5 جون 2024 کو اس وقت ہوا جب ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمتوں میں جنگِ آزادی کے مجاہدین کی اولاد کے لیے کوٹہ بحال کرنے کا فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے خلاف اگلے ہی روز ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبا نے احتجاج شروع کیا، جو جلد ہی ملک بھر کی جامعات تک پھیل گیا۔
مزید پڑھیں:ملک سے فرار شیخ حسینہ واجد کا دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آ کر گرفتاری دینے کا اعلان
ابتدائی طور پر طلبا کا مطالبہ صرف کوٹہ سسٹم میں اصلاحات تھا، تاہم جولائی کے آغاز میں ’اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمینیشن‘ نامی پلیٹ فارم کے تحت ملک گیر مظاہرے، شاہراہوں کی بندش اور ’بنگلا بلاکیڈ‘ مہم شروع کردی گئی۔
14 جولائی 2024 کو اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے ایک بیان نے تحریک کو نیا رخ دے دیا۔ طلبا نے ان کے ریمارکس کو اپنے خلاف قرار دیتے ہوئے احتجاج میں شدت پیدا کردی اور یہ تحریک حکومت مخالف عوامی احتجاج میں تبدیل ہوگئی۔
15 جولائی کو ڈھاکا یونیورسٹی میں جھڑپوں کے بعد تشدد میں اضافہ ہوا، جبکہ 16 جولائی کو بیگم روقیہ یونیورسٹی کے طالب علم ابو سعید پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے، جنہیں بعد ازاں تحریک کا پہلا نمایاں شہید قرار دیا گیا۔ ان کی ہلاکت کے بعد احتجاج ملک گیر عوامی تحریک میں بدل گیا۔
Remembering the historic July Mass Uprising Day.
On 5 August 2024, following thirty-six days of sustained resistance, Sheikh Hasina fled the country, bringing sixteen years of authoritarian rule to an end.
The uprising belonged to no single party or leader. It was carried by… pic.twitter.com/mlLgeoCFf9
— NCP Diaspora Alliance USA (@NCPDiasporaUSA) August 4, 2026
حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے کرفیو نافذ کیا، بارڈر گارڈ بنگلہ دیش اور فوج کو طلب کیا، جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے بعد میں کوٹہ بحال کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، لیکن اس وقت تک مظاہرین کے مطالبات حکومت سے مستعفی ہونے اور ہلاکتوں کا حساب لینے تک پہنچ چکے تھے۔
حکام نے تحریک کے متعدد رہنماؤں، جن میں ناہید اسلام، آصف محمود، ابو بکر موجومدار، سارجس عالم، حسنات عبداللہ اور نصرت تبسم شامل تھے، کو گرفتار کیا۔ احتجاجی رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ حراست کے دوران ان پر تحریک ختم کرنے کے اعلانات کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
5 اگست 2024 کو کرفیو اور سخت سیکیورٹی کے باوجود ہزاروں مظاہرین ’مارچ ٹو ڈھاکا‘ کے تحت دارالحکومت پہنچ گئے۔ اسی روز شیخ حسینہ واجد ملک چھوڑ کر بھارت روانہ ہوگئیں، جبکہ آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش: سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سمیت 22 افراد کے خلاف جبری گمشدگی کا مقدمہ دائر
رپورٹ کے مطابق جولائی تحریک میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پر اب بھی اختلاف ہے۔ جولائی اپرائزنگ ڈائریکٹوریٹ 843 افراد کو شہید تسلیم کرتا ہے، جبکہ جولائی مارٹرز میموریل فاؤنڈیشن 820 سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق کر چکی ہے۔ دیگر تنظیموں نے اس سے بھی زیادہ تعداد بتائی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صرف 2 ماہ کے عرصے میں ایک محدود طلبا تحریک ملک گیر عوامی بغاوت میں تبدیل ہوئی، جس نے بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ کا رخ بدل دیا۔














