اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی حمایت یافتہ غزہ منصوبے سے اتفاق کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے اس مسودے کی منظوری نہیں دی بلکہ صرف اپنی ترامیم واشنگٹن کو بھجوائی ہیں۔
دوسری جانب حکومتی اتحاد کے دائیں بازو کے ارکان کی مخالفت نے منصوبے پر سیاسی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
اسرائیل نے امریکی مسودہ مسترد کرنے کا عندیہ دے دیا
بنجمن نیتن یاہو نے منگل کی شب اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کا خیال ہے کہ وہ حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کو عسکریت سے پاک کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے، تاہم اسرائیل اس معاملے کا جائزہ لے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ امن منصوبہ: امریکا نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا اعلان کردیا
ان کے مطابق امریکا نے ایک مسودہ بھیجا تھا لیکن اسرائیل نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور اپنی تجاویز اور ترامیم واپس بھیج دی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہ ہو جائے۔
دائیں بازو کے وزرا کی نئی ووٹنگ کا مطالبہ
ادھر اسرائیلی حکومت کے دو انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزرا، وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ اور وزیر برائے آبادکاری اوریت اسٹروک نے منصوبے پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ منصوبہ ان نکات کی عکاسی نہیں کرتا جن پر ابتدائی طور پر بات ہوئی تھی۔
اگرچہ اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ پہلے ہی اس تجویز کی منظوری دے چکی ہے، تاہم نئی سیاسی مخالفت کے بعد اس پر اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔
کابینہ کا اجلاس مؤخر، سیاسی دباؤ برقرار
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے منگل کو سیکیورٹی کابینہ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اسے جمعرات تک مؤخر کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں:غزہ امن منصوبہ: حماس نے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرار داد کو مسترد کردیا
رپورٹوں کے مطابق یہ فیصلہ لیکود پارٹی کے اندر ہونے والی پرائمری ووٹنگ کے باعث کیا گیا، جبکہ 27 اکتوبر کے انتخابات سے قبل نیتن یاہو کو سخت سیاسی مقابلے کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی بھی منصوبے کا حصہ
امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت غزہ میں بین الاقوامی امن فوج تعینات کیے جانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
اسرائیلی تھنک ٹینک ‘مولاد’ کے محقق تال ایلووٹس کے مطابق دائیں بازو کی جانب سے دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ بنیادی طور پر نیتن یاہو پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے۔
ان کے مطابق اسرائیلی دائیں بازو ہمیشہ اس بات سے گریز کرتا رہا ہے کہ یہ تنازع مکمل طور پر بین الاقوامی شکل اختیار کرے، کیونکہ مختلف ممالک کے امن فوجیوں کی موجودگی میں اسرائیلی فوج کے طرزِ عمل پر عالمی نگرانی بڑھ جائے گی۔
امریکی دباؤ کے اثرات نمایاں ہونے لگے
رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے غزہ میں حملوں میں کمی لانے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد اسرائیلی فوج نے اپنے آپریشنل طریقہ کار میں تبدیلی کی ہے۔
اب ایسے حملوں کے لیے، جہاں فوجیوں کو فوری خطرہ لاحق نہ ہو، چیف آف اسٹاف کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ اس سے پہلے صرف علاقائی کمانڈر کی منظوری کافی سمجھی جاتی تھی۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ یکطرفہ اور ناقابلِ عمل، بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے، خواجہ سعد رفیق
اسرائیلی فوج نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے معاملہ سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں قرار دیا، جبکہ نیتن یاہو کے ترجمان نے بھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
امریکا کی سرپرستی میں تیار کیے گئے غزہ منصوبے کا مقصد جنگ کے بعد غزہ میں سیکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے کی تشکیل، حماس کی غیر مسلحی، اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی کے ذریعے خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔
تاہم اسرائیلی حکومت کے اندر اختلافات اور دائیں بازو کے اتحادیوں کی مخالفت اس منصوبے کی پیش رفت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔














