فیشن یا صحت؟ گرمیوں میں فلپ فلاپس پہننے سے پہلے یہ اہم باتیں ضرور جان لیں

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شدید گرمی میں ہلکی اور آرام دہ چپلیں، خصوصاً فلپ فلاپس، بہت سے لوگوں کی پہلی پسند ہوتی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انہیں زیادہ دیر تک یا غلط طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ پیروں پر منفی اثرات بھی ڈال سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی میں کون سے کپڑے پہنیں؟ جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ماہرین کے بہترین مشورے

تاہم مناسب معیار کی فلپ فلاپس یا متبادل سینڈلز کا انتخاب کرکے ان خطرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

فیشن ماہر انجیلا بائیڈو کے مطابق اس موسم گرما میں چھوٹی ہیل (کِٹن ہیل) والی فلپ فلاپس فیشن کا نیا رجحان بن چکی ہیں۔ ان کے بقول یہ نہ صرف پہننے اور اتارنے میں آسان ہیں بلکہ عام اونچی ایڑیوں کے مقابلے میں زیادہ آرام دہ بھی محسوس ہوتی ہیں۔

تاہم فلپ فلاپس پر اکثر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ وہ پیروں اور ٹخنوں کو مناسب سہارا فراہم نہیں کرتیں جس سے طویل مدت میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

فلپ فلاپس واقعی نقصان دہ ہیں؟

رائل کالج آف پوڈیاٹری کی چیف کلینیکل ایڈوائزر اور ماہرِ امراضِ پا ڈاکٹر ہیلن برینتھویٹ کا کہنا ہے کہ یہ کہنا درست نہیں کہ فلپ فلاپس بذاتِ خود نقصان دہ ہیں۔

مزید پڑھیے: شدید گرمی ذہن کو بھی متاثر کرتی ہے، ماہرین نے ’ہیٹ ویو اینگزائٹی‘ سے نمٹنے کے طریقے بتا دیے

ان کے مطابق اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص مسلسل مضبوط اور سپورٹ دینے والے جوتے پہننے کے بعد اچانک زیادہ وقت فلپ فلاپس میں گزارنا شروع کر دے۔ ایسی صورت میں پیروں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور چوٹ لگنے یا درد ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ پاؤں کی ساخت میں بھی معمولی تبدیلی آ سکتی ہے اور پاؤں نسبتاً پھیل سکتے ہیں کیونکہ فلپ فلاپس میں پاؤں کو وہ سہارا نہیں ملتا جو بند جوتوں میں حاصل ہوتا ہے۔

کون سی سینڈل بہتر انتخاب ہو سکتی ہے؟

فیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فلپ فلاپس خریدنی ہوں تو ایسی مصنوعات کا انتخاب کیا جائے جن میں آرچ سپورٹ اور مضبوط تلا موجود ہو کیونکہ یہ عام پتلی ربڑ کی چپلوں کے مقابلے میں زیادہ آرام دہ اور محفوظ ہوتی ہیں۔

ان کے علاوہ کروکس، برکن اسٹاک طرز کی سینڈلز، لکڑی کے کلاگ، ویج سینڈلز اور فشرمین اسٹائل سینڈلز بھی اس موسم میں آرام دہ اور فیشن ایبل متبادل سمجھے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ویج سینڈلز خاص طور پر ان افراد کے لیے بہتر انتخاب ہو سکتی ہیں جو زیادہ دیر کھڑے رہتے ہیں کیونکہ یہ پورے پاؤں کو بہتر سہارا فراہم کرتی ہیں۔

ننگے پاؤں جیسی جوتیوں کا رجحان

آج کل کم سے کم تلے والے جوتے بھی مقبول ہو رہے ہیں تاہم ڈاکٹر برینتھویٹ کا کہنا ہے کہ ایسے جوتے آہستہ آہستہ استعمال کرنے چاہییں۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ نیا جوڑا خریدتے ہی لمبی واک یا ہائیکنگ پر نہ نکلیں بلکہ پہلے اپنے پیروں کو اس کی عادت ڈالیں۔

ماہرین کی پیروں کی حفاظت کے لیے اہم تجاویز

ماہرین نے گرمیوں میں پیروں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے چند آسان مشورے بھی دیے ہیں۔ جوتے یا سینڈل خریدتے وقت اس کے تلے اور سپورٹ پر خصوصی توجہ دیں۔ اگر فلپ فلاپس کو آسانی سے درمیان سے موڑا جا سکتا ہے تو وہ ممکنہ طور پر مناسب سہارا فراہم نہیں کر رہیں۔ کھلی چپلیں پہننے سے پاؤں کی جلد جلدی خشک ہو سکتی ہے اس لیے ایڑیوں اور ناخنوں کی حالت پر نظر رکھیں۔ روزانہ یوریا پر مشتمل موئسچرائزنگ کریم یا ایمولینٹ استعمال کریں تاکہ جلد نرم اور صحت مند رہے۔ وقتاً فوقتاً اپنے پاؤں کا سائز دوبارہ چیک کروائیں کیونکہ عمر کے ساتھ پاؤں کی ساخت اور سائز میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فلپ فلاپس گرمیوں میں آرام دہ انتخاب ضرور ہیں لیکن اگر انہیں روزمرہ استعمال کرنا ہو تو بہتر معیار، مناسب سپورٹ اور پیروں کی باقاعدہ دیکھ بھال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

علاوہ ازیں ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف فیشن نہیں بلکہ اپنے روزمرہ معمول کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ اگر آپ زیادہ پیدل چلتے ہیں یا طویل وقت کھڑے رہتے ہیں تو ایسے جوتے یا سینڈلز کا انتخاب کریں جو پاؤں، ایڑی اور ٹخنوں کو بہتر سہارا فراہم کریں۔

مزید پڑھیں: شدید گرمی میں گھر اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے 6 مؤثر طریقے

فیشن ماہر انجیلا بائیڈو کے مطابق فلپ فلاپس اب صرف ساحل یا گھر تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہیں جدید انداز میں مختلف ملبوسات کے ساتھ بھی پہنا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے مشورہ دیا کہ فیشن کے ساتھ ساتھ آرام اور صحت کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق بازار میں دستیاب تمام فلپ فلاپس ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ اچھی کوالٹی کی فلپ فلاپس، جن میں آرچ سپورٹ اور مضبوط تلا موجود ہو، عام سستی اور پتلی ربڑ کی چپلوں کے مقابلے میں پیروں کے لیے نسبتاً بہتر ثابت ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: شدید گرمی میں دوائیں خراب ہونے سے کیسے بچائیں؟

ڈاکٹر ہیلن برینتھویٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پیروں کی ساخت زندگی بھر تبدیل ہوتی رہتی ہے اس لیے وقتاً فوقتاً اپنے جوتوں کا سائز چیک کروانا اور ضرورت کے مطابق نیا سائز اختیار کرنا بھی پیروں کی صحت کے لیے اہم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp