شدید گرمی ذہن کو بھی متاثر کرتی ہے، ماہرین نے ’ہیٹ ویو اینگزائٹی‘ سے نمٹنے کے طریقے بتا دیے

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شدید گرمی کی لہریں صرف جسمانی صحت ہی نہیں بلکہ ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث پیدا ہونے والی ’ہیٹ ویو اینگزائٹی‘ یا شدید گرمی سے متعلق ذہنی بے چینی لوگوں خصوصاً خواتین اور نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی میں کون سے کپڑے پہنیں؟ جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ماہرین کے بہترین مشورے

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق انگلینڈ میں جون 2026 ریکارڈ کا گرم ترین جون ثابت ہوا جس کے دوران کئی گھروں میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔ اس صورتحال نے بہت سے والدین خصوصاً چھوٹے بچوں کی ماؤں کو شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا کر دیا۔

بچوں کی فکر نے ماں کو رلا دیا

چیلٹنہم کی رہائشی 36 سالہ ٹیویا واٹس نے بتایا کہ گرمی کی شدت کے دوران وہ ہر وقت اضطراب کا شکار رہتی ہیں اور اپنے 2 اور 5 سالہ بچوں کے کمروں کا درجہ حرارت دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات بچوں کے سونے کے وقت انہیں کمرے سے باہر جا کر رونا پڑتا تھا کیونکہ انہیں مسلسل یہ خوف رہتا تھا کہ کہیں شدید گرمی ان کے بچوں کی صحت کے لیے خطرناک ثابت نہ ہو جائے۔

مزید پڑھیے: شدید گرمی میں گھر اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے 6 مؤثر طریقے

ٹیویا نے اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے انسٹاگرام پر ایک مختصر ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے کہا کہ انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا ختم ہونے کے قریب ہے اور وہ ان لوگوں پر غصہ محسوس کرتی ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

ان کی اس ویڈیو کو 18 ہزار سے زائد لائکس اور تقریباً 1,700 مرتبہ شیئر کیا گیا جبکہ ہزاروں افراد نے اعتراف کیا کہ وہ بھی اسی طرح کی ذہنی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔

’کلائمیٹ اینگزائٹی‘ کیا ہے؟

یونیورسٹی آف بات کی سنہ 2022 کی ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ میں تقریباً 4.6 فیصد افراد موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والی ذہنی بے چینی یا کلائمیٹ اینگزائٹی کا شکار ہیں۔ برطانیہ کے این ایچ ایس اور دیگر طبی ادارے اسے ذہنی دباؤ کی ایک تسلیم شدہ کیفیت قرار دیتے ہیں۔

سنہ 2025 میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق نوجوان اور خواتین اس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات ہیں۔

گرمی کی اگلی لہر کا خوف

یونیورسٹی آف بات کی ماہر نفسیات ڈاکٹر کیرولین ہک مین کے مطابق حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی بار بار آنے والی لہروں نے لوگوں میں ’پیشگی اضطراب‘ پیدا کر دیا ہے۔

ان کے مطابق جب کوئی شخص شدید گرمی یا سیلاب جیسے کسی تکلیف دہ تجربے سے گزرتا ہے تو وہ اگلی آفت کے انتظار میں بھی ذہنی دباؤ کا شکار رہتا ہے۔

مزید پڑھیں: شدید گرمی میں کیا کھانا اور پینا چاہیے؟ ماہرین نے ہیٹ ویو کے دوران بہترین خوراک بتا دی

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مسلسل آنے والی ہیٹ ویوز لوگوں کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ دنیا اب محفوظ نہیں رہی۔

ڈاکٹر ہک مین نے بتایا کہ شدید گرمی کے دوران انہیں ایسے مریض بھی ملے جنہوں نے خودکشی، حمل ختم کرنے یا نسبتاً ٹھنڈے علاقوں میں منتقل ہونے جیسے خیالات کا اظہار کیا۔

کچھ لوگ عملی اقدامات کو بہتر حل سمجھتے ہیں

ٹیویا واٹس کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں صرف مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے مثبت اقدامات کرنا زیادہ مفید ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ماحولیات سے متعلق درخواستوں پر دستخط کرتی ہیں، مقامی کمیونٹی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں، بچوں کے کپڑوں کے مفت تبادلے کا پروگرام چلاتی ہیں اور حالیہ ہیٹ ویو کے دوران انہوں نے گوشت کھانا بھی چھوڑ دیا تاکہ اپنے بچوں کو یہ بتا سکیں کہ انہوں نے ماحول کے لیے اپنی طرف سے کوشش ضرور کی۔

نئی ماؤں میں بھی تشویش بڑھنے لگی

لندن کی رہائشی لزی ایلن، جن کے ہاں چند ماہ قبل بچے کی پیدائش ہوئی، کہتی ہیں کہ حالیہ شدید گرمی نے انہیں مسلسل موسم کی پیشگوئی دیکھنے پر مجبور کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے: 123 سال پرانا ایئر کنڈیشننگ سسٹم آج کی شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے کیا سبق دیتا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے نومولود بچے کو گرمی سے محفوظ رکھنے کے لیے زیادہ تر گھر کے اندر رہتی ہیں جبکہ انہیں مستقبل کی گرمی کی شدت بھی خوفزدہ کرتی ہے۔

ان کے مطابق اگر موجودہ گرمی آنے والے برسوں میں معمول بن گئی تو ان کے بچے کی زندگی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

کچھ لوگوں نے شہر بھی بدل دیے

ماہر ماحولیات ڈاکٹر فرانسس ونڈرم نے بڑھتی ہوئی گرمی کے خدشات کے باعث لندن کے قریب واقع علاقے اسکاٹ چھوڑ کر شمال مغربی انگلینڈ کے شہر لنکاسٹر منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیں: شدید گرمی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں متاثر کرتی ہے؟

انہوں نے بتایا کہ وہاں منتقل ہونے کے باوجود انہوں نے احتیاطاً پورٹیبل ایئر کنڈیشنر بھی خرید لیا کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ مستقبل میں گرمی مزید شدت اختیار کرے گی۔

ماہرین کی تجاویز: ہیٹ ویو اینگزائٹی سے کیسے نمٹا جائے؟

ماہرین نفسیات کے مطابق شدید گرمی سے پیدا ہونے والی ذہنی بے چینی پر قابو پانے کے لیے چند عملی اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

اپنے جذبات دوسروں سے شیئر کریں اور اس مسئلے پر کھل کر بات کریں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہیں جو ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوں۔ درخت لگانے، ماحول دوست منصوبوں یا مقامی کمیونٹی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے بے چینی میں کمی آ سکتی ہے۔ جسم کو ٹھنڈا رکھنا بھی ذہنی سکون کے لیے ضروری ہے۔ ٹھنڈا شاور لیں، گردن پر ٹھنڈی پٹی رکھیں، پانی زیادہ پئیں اور خود کو ہائیڈریٹ رکھیں۔

مزید پڑھیے: شدید گرمی میں عام پنکھا بھی ایئرکنڈیشنر جیسی ٹھنڈک دے سکتا ہے، بس یہ طریقے اپنالیں

ڈاکٹر ایما لارنس کا کہنا ہے کہ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے لیکن لوگ مکمل طور پر بے بس نہیں ہیں اور مناسب اقدامات کے ذریعے نہ صرف اپنی جسمانی بلکہ ذہنی صحت کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جرمن نشریاتی ادارے کی پاکستان مخالف دستاویزی فلم پر خواجہ آصف سمیت اہم سیاسی و صحافتی شخصیات کی شدید تنقید

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

اوپن اے آئی کے تجرباتی ماڈلز خو ہی ہیکر بن گئے، حقیقت کیا ہے؟

جنرل عامر رضا نے نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی کمان سنبھال لی، گارڈ آف آنر پیش

ویڈیو

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

جنوبی افریقہ میں فائرنگ کا واقعہ، 2 سگے بھائیوں سمیت 4 پاکستانی جاں بحق، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کردیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان