امریکا کے نئے ٹیکسز کے نفاذ کا جواب، چین نے ڈرون برآمدات ختم، 6 امریکی کمپنیوں پر پابندی عائد کردی

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی جانب سے نئے محصولات کے نفاذ کے ردعمل میں چین نے سخت جوابی اقدامات کرتے ہوئے امریکا کو ڈرون اور اس سے متعلقہ ٹیکنالوجی کی برآمدات محدود کر دی ہیں اور 6 امریکی اداروں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔

بیجنگ نے واشنگٹن کی جانب سے جبری مشقت اور قومی سلامتی کے نام پر عائد کردہ تجارتی پابندیوں کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے بدھ کو اہم پابندیوں کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کی جانب سے چینی روبوٹس اور پاور اِنورٹرز کی درآمد پر پابندی، چین کا جوابی کارروائی کا انتباہ

چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان کے مطابق امریکا کے یہ اقدامات بیجنگ کے جائز حقوق اور مفادات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، جس کے بعد چین کے پاس جوابی اقدامات کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔

نئے جوابی اقدامات کے تحت چین نے امریکا کو ڈرون، ان کے کلیدی پرزہ جات اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی برآمدات پر سخت کنٹرول نافذ کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ چینی سرٹیفیکیشن اداروں کی جانب سے فیکٹری معائنے معطل کرنے، امریکی تعمیل کی جانچ کرنے والی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے اور دفتری پرنٹرز و کاپیئرز کی درآمدات پر قومی سلامتی کی تحقیقات شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

امریکا کی بلیک لسٹڈ کمپنیاں اور سنکیانگ تنازع

بیجنگ نے امریکا کی 6 کاروباری کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی زد میں لے لیا ہے، جن میں بائیوٹیک کمپنی اپلائیڈ ڈی این اے سائنسز  اور جیو سائنس ریسرچ فرم اسٹریٹم ریزروائر شامل ہیں۔

ان تمام اداروں اور افراد پر چین کے اندر کسی بھی قسم کے کاروباری لین دین، تعاون یا سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

چینی وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ ان  6 اداروں نے سنکیانگ سے متعلق غیر قانونی امریکی پابندیوں کی مدد اور حمایت کی ہے اور ان کا یہ رویہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔

تجارت جنگ کشیدگی میں اضافہ

چین کے سرفہرست تجارتی عہدیدار ہی لیفینگ نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے میں ان نئی پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے امریکا نے بیرون ملک تیار کردہ ہیومنائڈ اور کواڈروپیڈ روبوٹس کی درآمدات پر پابندی عائد کی تھی، جس پر چین نے واشنگٹن پر چینی کمپنیوں کو دبانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

مزید پڑھیں:چین اور امریکا کے درمیان نئے تجارتی مذاکرات پر اتفاق

گزشتہ برس چین اور امریکا ایک طویل تجارتی جنگ میں الجھے رہے تھے، تاہم گزشتہ سال اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد اس کشیدگی میں عارضی کمی آئی تھی۔

اب واشنگٹن کی جانب سے نئے ٹیرف کے نفاذ نے اس عارضی جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے جبکہ بیجنگ نے امریکا کو تجارتی جنگ کو مزید ہوا دینے کے نتائج سے خبردار کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp