سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع ہیں، امریکی عہدیدار

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ایک سینیئر ترین عہدیدار نے کہا ہے کہ سیکیورٹی چیلنجز اپنی جگہ حقیقت ہیں، تاہم پاکستان کا معدنی شعبہ غیر معمولی صلاحیت کا حامل ہے اور یہاں امریکی، چینی اور دیگر عالمی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے رکاوٹیں دور کر رہا ہے اور معدنی شعبہ آئندہ برسوں میں ملکی معیشت کا اہم ستون بن سکتا ہے۔

پاکستان کے معدنی وسائل عالمی توجہ کا مرکز

امریکی سفارت خانے کے سینیئر عہدیدار نے پاکستان کے معدنی شعبے سے متعلق پس منظر بریفنگ کے دوران پاکستانی میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ پاکستان خصوصاً تانبے، اینٹی منی اور ٹنگسٹن سمیت اہم معدنیات کے وسیع ذخائر رکھتا ہے، جن میں عالمی سرمایہ کاروں کی گہری دلچسپی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے متعدد اصلاحات کر رہی ہے، سرمایہ کاروں کو درپیش رکاوٹیں دور کی جا رہی ہیں اور امریکی سمیت دیگر غیر ملکی کمپنیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

پاکستان صرف امریکا یا چین تک محدود نہیں

ایک سوال کے جواب میں امریکی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان کے نقطہ نظر سے معاملہ امریکا یا چین میں کسی ایک کے انتخاب کا نہیں، بلکہ پاکستان دنیا بھر سے سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔

ان کے مطابق پاکستان اہم معدنیات کی محفوظ اور مستحکم عالمی سپلائی چین کا حصہ بننے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں امریکی، مغربی اور چینی کمپنیوں کے لیے یکساں مواقع موجود ہیں۔

سیکیورٹی خدشات حقیقت، مگر سرمایہ کاری کا عمل جاری ہے

امریکی عہدیدار نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی چیلنجز موجود ہیں، تاہم دنیا بھر میں معدنی منصوبے اکثر مشکل اور حساس علاقوں میں ہی واقع ہوتے ہیں، اس لیے سرمایہ کار ان خطرات کو اپنی منصوبہ بندی کا حصہ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وزیرستان میں اینٹی منی جبکہ بعض علاقوں میں تانبے کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ گلگت بلتستان میں بھی اہم معدنیات کی تلاش جاری ہے۔

ان کے مطابق امریکی سفارت خانہ سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کو زمینی حقائق سے مکمل طور پر آگاہ کرتا ہے اور کئی کمپنیاں پاکستانی حکومت کے ساتھ سیکیورٹی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:پاک-امریکا تعلقات بہترین، امریکی کمپنیاں ریکوڈک منصوبے پر جلد اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی، امریکی سفارتکار

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی کمپنیوں کو بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں پہلے سے کام کرنے والی پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، جبکہ امریکی سفارت خانہ انہیں وزارتِ پیٹرولیم اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی )سے رابطوں میں بھی معاونت فراہم کرتا ہے۔

ریکوڈک مستقبل کا گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے

امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں معدنی منصوبوں میں شراکت داری کو اپنی معاشی اور قومی سلامتی کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) نے ریکوڈک منصوبے کے لیے 1.25 بلین ڈالر تک کی ممکنہ سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے، تاہم مالیاتی پیکیج کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک منصوبہ بند نہیں ہوا بلکہ لاگت کے تخمینوں پر نظرثانی کے باعث اس کی رفتار ابتدائی منصوبہ بندی کے مقابلے میں سست ہے۔

دنیا بھر میں کسی بھی بڑے تانبے کے منصوبے کو دریافت سے پیداوار تک پہنچنے میں اوسطاً 18  سال لگتے ہیں، اس لیے ریکوڈک کی موجودہ پیش رفت غیر معمولی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد صرف سرمایہ کار ہی نہیں بلکہ مقامی مزدوروں، ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ شعبوں کو بھی اربوں ڈالر کے معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔

معدنی شعبہ پاکستان کی معیشت بدل سکتا ہے

امریکی عہدیدار نے کہا کہ گزشتہ 3  سالوں کے دوران پاکستانی حکومت نے معدنی شعبے پر خصوصی توجہ دی ہے کیونکہ یہ شعبہ ملکی معیشت میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے۔

ان کے مطابق اس وقت پاکستان کا معدنی شعبہ مجموعی قومی پیداوار ’جی ڈی پی‘ میں تقریباً 3  فیصد حصہ ڈالتا ہے، جبکہ صرف ریکوڈک منصوبہ ہی ملکی ’جی ڈی پی‘ میں مزید 0.5 فیصد اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چاغی: ریکوڈک پروجیکٹ سائٹ روڈ پر خوفناک ٹریفک حادثہ، 11 افراد جاں بحق، 6 زخمی

انہوں نے کہا کہ خام یا پراسیس شدہ معدنیات کی برآمدات پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکی اور دیگر غیر ملکی کمپنیاں پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہی ہیں۔

امریکی کمپنیوں کی مختلف سطحوں پر دلچسپی

عہدیدار کے مطابق بعض امریکی کمپنیاں پاکستان کی چھوٹی کانوں سے معدنیات خرید کر انہیں بیرون ملک پراسیسنگ کے لیے بھیجنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

جبکہ کچھ کمپنیاں چھوٹی کانوں کی خریداری اور ترقی چاہتی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی سرمایہ کار بڑے پیمانے پر تانبے سمیت دیگر معدنی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے پیش گوئی کی کہ آئندہ 10 سے 20 سالوں میں معدنی شعبہ پاکستان کی معیشت کے نمایاں ترین شعبوں میں شامل ہو سکتا ہے۔

اہم معدنیات کی عالمی دوڑ

امریکی عہدیدار نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، توانائی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) ، سیمی کنڈکٹرز، دفاعی صنعت، سیٹلائٹس اور کمپیوٹنگ کے لیے تقریباً 60 اہم معدنیات ناگزیر ہیں، جبکہ آنے والے برسوں میں تانبے کی عالمی طلب میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ان معدنیات کی محفوظ سپلائی چین قائم کرنے کے لیے آسٹریلیا، پاکستان، افریقی اور جنوبی امریکی ممالک سمیت مختلف شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے، جبکہ امریکا کے اندر بھی متعلقہ منصوبوں کے لیے ضوابط میں نرمی کی جا رہی ہے۔

معاشی روابط بڑھانے پر توجہ

امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی سفارت خانے کا اکنامک سیکشن پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور دوطرفہ معاشی تعاون کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔

ان کے مطابق یہ بیک گراؤنڈ بریفنگ ایک سالہ آؤٹ ریچ مہم کا آغاز ہے، جس کے تحت آئندہ مہینوں میں تجارت، خوشحالی، سرمایہ کاری اور جدت کے موضوعات پر مختلف سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔

مزید پڑھیں:ریکوڈک منصوبہ اہمیت کا حامل، پاکستان 2040 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی راہ پر گامزن

واضح رہے کہ پاکستان گزشتہ چند برسوں سے معدنی وسائل، خصوصاً ریکوڈک اور دیگر اہم ذخائر کی ترقی کو قومی معاشی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بنا رہا ہے۔

حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، عالمی شراکت داری اور اہم معدنیات کی بین الاقوامی سپلائی چین میں مؤثر کردار کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جبکہ امریکا، چین اور دیگر ممالک کی کمپنیاں اس شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp