اب ویکسین فریج کی محتاج نہیں رہے گی، سائنسدانوں نے دوا ضائع ہوجانے کے بڑے مسئلے پر قابو پالیا

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کے سائنس دانوں نے پہلی بار ایسی ویکسین انسانوں پر کامیابی سے آزما لی ہے جسے محفوظ رکھنے کے لیے فریج یا فریزر کی ضرورت نہیں پڑتی۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ’یونیورسل ویکسین‘ کا انسانوں پر پہلا کامیاب تجربہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت دنیا بھر میں ویکسین کے ضیاع کو کم کرنے اور دور دراز علاقوں تک حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی آسان بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق موجودہ نظام میں زیادہ تر ویکسین مخصوص درجہ حرارت پر محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے تاہم گرمی یا سردی کی وجہ سے کولڈ چین متاثر ہونے پر بڑی تعداد میں ویکسین ضائع ہو جاتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً نصف ویکسین مختلف وجوہات کی بنا پر استعمال سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہیں جن میں کولڈ چین کی خرابی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

برطانیہ کی بائیوٹیک کمپنی اسٹیبل فارما نے ٹیٹنس اور ڈفتھیریا سے بچاؤ کی مائع ویکسین کو ایک خاص طریقے سے خشک پاؤڈر میں تبدیل کیا جسے ایک سال تک عام کمرے کے درجہ حرارت پر محفوظ رکھا گیا۔ بعد ازاں اسے پانی میں ملا کر 60 رضاکاروں کو لگایا گیا۔

ابتدائی نتائج کے مطابق اس نئی ویکسین نے روایتی ویکسین کے برابر مدافعتی ردعمل پیدا کیا اور یہ محفوظ ثابت ہوئی۔

مزید پڑھیے: پولیو مہم میں کتنے بچوں کو ویکسین نہیں لگ سکی، وجوہات کیا تھیں؟

تحقیق میں شامل پروفیسر ساؤل فاسٹ نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں کولڈ چین پر انحصار کم کرنے ویکسین کے ضیاع میں کمی لانے اور دنیا کے دور افتادہ علاقوں میں حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پودے سے ملی نئی ٹیکنالوجی کی تحریک

سائنس دانوں نے اس نئی ٹیکنالوجی کی بنیاد ایک ایسے پودے سے اخذ کی ہے جسے ’ریزرکشن پلانٹ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ پودا شدید خشک سالی میں بالکل خشک ہو کر مردہ دکھائی دیتا ہے مگر بارش ہوتے ہی دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔

اس پودے میں قدرتی طور پر ٹریہیلوز نامی ایک خاص شکر بنتی ہے جو خلیات کو خشک ہونے کے باوجود محفوظ رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں: ییلو فیور کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابی، نئی ویکسین بھی مؤثر ثابت

محققین نے اسی مادے کی مدد سے ویکسین کو خشک پاؤڈر کی شکل میں محفوظ رکھا جس سے اس کے مؤثر اجزا خراب نہیں ہوئے۔

بڑی آزمائش جلد شروع ہوگی

محققین کے مطابق اب 160 افراد پر مشتمل ایک بڑی آزمائش آئندہ چند ماہ میں شروع کی جائے گی۔ چونکہ اصل ٹیٹنس اور ڈفتھیریا ویکسین پہلے ہی منظور شدہ ہے اس لیے اس ٹیکنالوجی کی منظوری کا عمل نسبتاً آسان ہونے کی توقع ہے۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ ویکسین کے اجزا منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے لے کر مثبت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت میں بھی اپنی افادیت برقرار رکھ سکتے ہیں، جس سے ہوائی جہاز، ٹرک اور دشوار گزار علاقوں میں محفوظ ترسیل ممکن ہو سکے گی۔

صرف ویکسین ہی نہیں بلکہ دیگر ادویات کو بھی فائدہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس طریقہ کار کو فی الحال جدید ایم آر این اے  ویکسینز پر لاگو نہیں کیا جا سکتا تاہم موجودہ کئی اقسام کی ویکسین اور بعض ایسی ادویات مثلاً مونوکلونل اینٹی باڈیز جنہیں عام طور پر فریج میں رکھنا پڑتا ہے اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

ماہرین کا ردعمل

برطانیہ کے سابق ڈپٹی چیف میڈیکل آفیسر پروفیسر سر جوناتھن وین ٹام نے کہا کہ انہوں نے خود دور افتادہ علاقوں میں کولڈ باکس کے ذریعے ویکسین پہنچانے میں پیش آنے والی مشکلات دیکھی ہیں اس لیے اگر ویکسین کو فریج کے بغیر محفوظ رکھا جا سکے تو یہ عالمی صحت کے لیے ایک انقلابی پیشرفت ہوگی۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف ساؤتھ ایسٹ ایشیا ویکسین مینوفیکچرنگ ریسرچ حب کے پروفیسر ٹک سینگ وونگ نے اسے برطانوی سائنس کی ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف آبادیوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ مختلف موسمی حالات میں اس ٹیکنالوجی کی کارکردگی کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔

یونیسیف اور عالمی ماہرین کی امیدیں

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے ایسوسی ایٹ ڈائریکر برائے حفاظتی ٹیکہ جات افرم ٹیکلے لیمنگو کا کہنا ہے کہ چونکہ دنیا بھر میں حفاظتی ٹیکوں کا نظام ریفریجریشن پر انحصار کرتا ہے اس لیے یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں لاکھوں مزید بچوں تک ویکسین پہنچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: روس میں کینسر کے علاج میں بڑی پیشرفت، شہریوں کو مفت ذاتی نوعیت کی ویکسین فراہم کی جائے گی

ادھر اسٹیبل فارما کے بانی ڈاکٹر بروس روزر نے کہا کہ اگر محفوظ اور قابل اعتماد ’فریج فری ویکسین‘ بڑے پیمانے پر دستیاب ہو جاتی ہیں تو یہ عالمی صحت کے شعبے میں گیم چینجر ثابت ہوں گی کیونکہ اس سے دنیا کے ہر خطے میں جان بچانے والی ویکسین کی فراہمی آسان، زیادہ پائیدار اور منصفانہ بنائی جا سکے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لیک رپورٹ نے ٹک ٹاک کی نوجوانوں کے تحفظ کی پالیسی پر نئی بحث چھیڑ دی

کیا اے آئی واقعی قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی، میٹا اور دیگر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

طبی میدان میں ایک اور انقلابی ایجاد، کرونا کے بعد اب فلو ویکسین متعارف

لندن کے کووینٹ گارڈن میں 4 افراد پر چاقو سے حملہ کرنے والی خاتون پر فرد جرم عائد

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، 17.04 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے

ویڈیو

شہبازشریف کا مستقبل کیا؟ بڑی خبر، کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ پی ٹی آئی کیوں؟ نئے صوبوں کا قیام، اندر کی خبر

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب روانہ، سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے اہم ملاقات کریں گے

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ