نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جون 2026 کے لیے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں فی یونٹ بجلی 0.7503 روپے (تقریباً 75 پیسے) مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت اگست کے بلوں میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو صارفین سے اضافی 9 ارب 80 کروڑ روپے وصول کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔
نیپرا کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں یہ اضافہ کے الیکٹرک اور تمام سابقہ واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے صارفین پر لاگو ہوگا۔ تاہم، لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز (ای وی سی ایس) اور تمام زمروں کے پری پیڈ ٹیرف استعمال کرنے والے صارفین اس اضافے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ یہ تعدیل ’انکریمنٹل کنزیومپشن پیکیج‘ کے تحت استعمال کی گئی بجلی پر بھی لاگو ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے حکومت نے 4 سالوں میں بجلی کے بل اور 2 سالوں میں پیٹرولیم لیوی سے کتنے ارب روپے کمائے؟ حیران کن اعداد و شمار
نیپرا نے یہ منظوری سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے-جی) کی جانب سے فی یونٹ 1.20 روپے اضافے کی درخواست پر دی ہے۔ ریگولیٹر نے فراہم کردہ اعداد و شمار کی چھان بین کے بعد فی یونٹ قابل وصول رقم کو کم کر کے 0.7503 روپے مقرر کیا۔
اپنے فیصلے میں ریگولیٹری اتھارٹی نے جون 2026 کے دوران پاور پلانٹس کو ان کی مکمل صلاحیت سے کم پر چلانے (پارشل لوڈنگ) کی مد میں آئے 4 ارب 90 کروڑ روپے کے اخراجات پر تشویش کا اظہار کیا۔ نیپرا نے نشاندہی کی کہ یہ اخراجات جون 2025 کے مقابلے میں تقریباً 1 ارب روپے زیادہ ہیں، اور سی پی پی اے-جی کو ان اخراجات میں کمی کے لیے ایک جامع حکمت عملی پیش کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان میں مہنگی بجلی اور کولنگ سسٹمز کی عدم دستیابی، 2050 تک سالانہ ڈیڑھ لاکھ اضافی ہلاکتوں کا خدشہ
دوسری جانب انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (اسمو) نے نیپرا کے سامنے موقف اختیار کیا کہ پارشل لوڈنگ اخراجات سے بچنے کے لیے بجلی کے کارخانے بند کرنے کی صورت میں اسٹارٹ اپ کے بھاری اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں، اس لیے موجودہ طریقہ کار ہی زیادہ معاشی اور سود مند ہے۔














