یونیورسٹی آف شکاگو کے ‘کلائمیٹ امپیکٹ لیب’ کی تازہ ترین تحقیقی رپورٹ کے مطابق، شدت اختیار کرتی ہوئی گرمی کی لہروں کے دوران توانائی اور کولنگ سسٹمز (ایئر کنڈیشنرز اور ٹھنڈک فراہم کرنے والے آلات) تک غریب ممالک کی عدم رسائی کے باعث ہلاکتوں کے خطرات میں ڈرامائی اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان ان 18 ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو ’مورٹالٹی کولنگ ٹریپ‘ (MCT) کا شکار ہیں، جہاں 2050ء تک شدید گرمی اور کولنگ سسٹمز سے محرومی کے باعث سالانہ 1 لاکھ 50 ہزار سے زائد اضافی ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

شدید گرمی اور غریب ممالک کی کمزوری
شدت اختیار کرتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیوں اور گرمی کی شدید لہروں کے باعث غریب اور ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ امیر ممالک کے مقابلے میں بجلی کے مہنگے داموں اور کولنگ سسٹمز تک عدم رسائی کے باعث غریب ممالک میں گرمی سے ہونے والی اموات کی شرح 10 گنا زیادہ ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایل نینو اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں شدید گرمی اور مون سون کے خطرات کو کیسے بڑھا رہے ہیں؟
کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں متوقع اضافے سے 2050ء تک عالمگیر سطح پر ہر سال تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار اضافی اموات ہو سکتی ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 18 ممالک جہاں 67 کروڑ 60 لاکھ سے زائد آبادی مقیم ہے، شدید گرمی اور ٹھنڈک فراہم کرنے والے سسٹمز کی عدم دستیابی کے جانلیوا جکڑ بند یعنی ’مورٹالٹی کولنگ ٹریپ‘ (MCT) میں پھنس چکے ہیں۔ پاکستان، نائجر، نیپال، مالی، برکینا فاسو، چاڈ، بنگلہ دیش اور میانمار جیسے ممالک اس بحران کا سب سے بڑا نشانہ ہیں۔
پاکستان اور دیگر ممالک میں متوقع ہلاکتیں
رپورٹ کے اندازوں کے مطابق 2050ء سے ان متاثرہ ممالک میں سالانہ 3 لاکھ 77 ہزار افراد صرف شدید گرمی کے باعث لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تقریباً 89 فیصد آبادی ان متاثرہ علاقوں میں مقیم ہو سکتی ہے، جہاں فی 1 لاکھ آبادی میں 57 اضافی اموات کا خدشہ ہے۔ پاکستان میں AC اور دیگر کولنگ سہولیات تک لوگوں کی عدم رسائی سالانہ 1 لاکھ 50 ہزار سے زائد جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔

عالمی سطح پر 20 ایسے بڑے شہروں کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس خطرے کی زد میں ہیں، جن میں سے سب سے زیادہ یعنی 9 شہر پاکستان میں، 2 بنگلہ دیش اور 2 سوڈان میں واقع ہیں۔
کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے سائنسی تحقیق کے ڈائریکٹر اشون روڈے کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں شمسی توانائی (سولر پینلز) کی تنصیب میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن ایئر کنڈیشنرز جیسے آلات کو خریدنا اور چلانا غریب آبادی کی اکثریت کی پہنچ سے باہر ہے، جس کی وجہ سے شمسی توانائی کا استعمال بھی مکمل حل ثابت نہیں ہو رہا۔
ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایف بی آر کے چیئرمین کے مطابق پاکستان کے 4 کروڑ 20 لاکھ گھرانوں میں سے صرف 7 فیصد کے پاس ایئر کنڈیشنر موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے جنوبی ایشیا ریکارڈ گرمی کی لپیٹ میں، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سب سے زیادہ متاثر
رپورٹ میں پاکستان کے ماہرین توانائی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں یہ مسئلہ صرف بجلی کی کمی کا نہیں بلکہ بنیادی طور پر بجلی اور آلات کے سستا اور قابلِ برداشت نہ ہونے کا ہے۔ لوگ ٹھنڈک چاہتے ہیں مگر مالی وسائل کی کمی ان کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
اگر ڈسٹری بیوٹڈ سولر انرجی کی طرح بجلی کے شعبے میں فوری اصلاحات کی جائیں، عوام کو ارزاں قیمت پر بجلی فراہم کی جائے، ہیٹ ایکشن پلانز بنائے جائیں، اور شہروں کو شجرکاری کے ذریعے سرسبز بنایا جائے تو اس المناک صورتحال سے بچا جا سکتا ہے۔













