ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے عمان کے ساتھ معاہدہ قریب پہنچ گیا ہے، تاہم صرف ایران اور عمان کے درمیان سمجھوتا ہونے سے اہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر نہیں کھلے گی۔ تہران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا سے معاوضے، دھمکیوں اور حملوں کے خاتمے، پابندیاں اٹھانے اور ایرانی اثاثے بحال کرنے سمیت متعدد شرائط پیش کردی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایک نئے بحری راستے کے معاہدے کے بہت قریب ہیں، تاہم آبنائے کو دوبارہ کھولنے کا انحصار دیگر شرائط پر بھی ہوگا، جن میں امریکا کی جانب سے ایران کو معاوضہ دینا بھی شامل ہے۔
🚨 JUST NOW: Iran is demanding President Trump LIFT the ENTIRE naval blockade — among other concessions — if they are going to fully open the Strait of Hormuz
The Trump admin is currently BLOCKING Iran attempts to force tolls in the strait
47 doesn't back down to terrorists! 🔥 pic.twitter.com/U2expSvjKj
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) August 8, 2026
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مزید شرائط بیان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو ایران کے خلاف دھمکیاں اور جارحیت ختم کرنا ہوگی، ایران کے اتحادیوں لبنان، فلسطین، یمن اور عراق کے خلاف کارروائیاں روکنا ہوں گی، ایران پر عائد پابندیاں اور ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی جبکہ ایرانی اثاثے بھی بحال کرنا ہوں گے۔
عمان نے بھی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بحری آمدورفت کے انتظامات سے متعلق مذاکرات مثبت اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ عمانی وزارت خارجہ نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو مذاکرات اور اب تک ہونے والی پیشرفت کو متاثر کرسکتے ہیں۔
عباس عراقچی کے مطابق آبنائے ہرمز میں پہلے سے موجود بحری ٹریفک کا نظام ایران کے لیے قابل قبول نہیں رہا، اس لیے عمان کے ساتھ عارضی بحری راستے پر بات چیت جاری ہے، جبکہ مستقل راستے کے لیے تکنیکی اور قانونی معاملات طے کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، آبنائے ہرمز جلد کھل جائےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی معاہدے کے لیے موجودہ صورتحال کو موزوں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں اتحاد، طاقت اور یکجہتی موجود ہے اور ان کے بقول ایران جنگ میں فتح یاب اور مضبوط حیثیت میں ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اماراتی سرکاری تیل ادارے سے وابستہ ایک بحری جہاز کو میزائل سے نشانہ بنایا۔ حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے کے مطابق ایک بحری جہاز نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آنے کے بعد آگ لگنے سے متاثر ہوا، تاہم آگ پر قابو پالیا گیا اور ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکی حکام اس سے قبل متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے معاہدہ قریب ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اگر تجارتی بحری جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت بحال کرنے کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اٹھا دے گا، تاہم امریکی اقدامات ایران کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد سے مشروط ہوں گے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق موجودہ ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد انسانی امداد لے جانے والے 30 سے زائد بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی، جبکہ 53 جہازوں کو واپس بھیجا گیا، 2 جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا اور 2 دیگر پر امریکی فورسز نے چڑھائی کی۔
Iran says deal on Strait of Hormuz is close but is not enough to open the waterway https://t.co/l2rbbnTgqO
— Reuters Iran (@ReutersIran) August 8, 2026
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ صرف ایران اور عمان کے مذاکرات سے وابستہ نہیں بلکہ امریکا کی جانب سے ایران کی شرائط تسلیم کیے جانے سے مشروط ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا کہ جب امریکا ایران کی شرائط تسلیم کرے گا تو آبنائے ہرمز ضرور کھول دی جائے گی۔
رائٹرز کے مطابق رواں ہفتے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ایران، امریکا اور عمان کے درمیان ممکنہ معاہدے میں تہران کو آبنائے ہرمز سے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں پر کچھ حد تک کنٹرول دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ تاہم امریکی حکام ماضی میں واضح کرچکے ہیں کہ وہ دنیا کی اہم ترین توانائی کی تجارتی گزرگاہ تک ایران کو رسائی یا کنٹرول دینے پر رضامند نہیں ہوں گے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل و گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔ حالیہ کشیدگی کے باعث بحری تجارت میں شدید خلل پیدا ہوا ہے، جس سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی میں مزید تیزی آئی ہے۔













