دنیا بھر میں مقامی اقوام کے عالمی دن کے موقع پر ان کے حقوق، ثقافت، روایات اور نسل در نسل منتقل ہونے والے علم و تجربات کی اہمیت اجاگر کی جا رہی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی پاکستان میں مقامی اقوام کے حقوق اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کالاش سمیت شمالی علاقوں کی مختلف برادریوں کی خدمات اور روایات کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
Indigenous Peoples protect 80% of global biodiversity & are key to #ClimateAction.
Yet they’re often excluded from decisions & funding affecting their own lands — while facing rising threats from environmental degradation.
Sunday is #IndigenousDay. pic.twitter.com/EXxddue0nW
— United Nations (@UN) August 8, 2026
مقامی اقوام کا عالمی دن آج دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے۔ اس سال دن کا موضوع ’مقامی اقوام کی دائیوں کو خراجِ تحسین، زندگی اور فلاح و بہبود کا تحفظ‘ رکھا گیا ہے۔ اندازے کے مطابق دنیا کے 90 ممالک میں تقریباً 47 کروڑ 60 لاکھ مقامی اقوام سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں، جو تقریباً 5 ہزار مختلف ثقافتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن مقامی اقوام کی خدمات کو تسلیم کرنے اور ان کے علم، روایات اور ایسے طریقوں کو سراہنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو انہوں نے نسل در نسل محفوظ رکھے اور آگے منتقل کیے ہیں۔
"Pakistan ratified the UNESCO Convention for the Safeguarding of the Intangible Cultural Heritage in 2005. The Convention provides an important framework for safeguarding the knowledge, skills, traditions and practices that communities pass on from generation to generation.… pic.twitter.com/bLSKn1RKBr
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) August 9, 2026
صدر نے کہا کہ پاکستان کا ثقافتی تنوع کالاش اور شمالی پہاڑی علاقوں میں آباد مختلف برادریوں سمیت متعدد مقامی اقوام پر مشتمل ہے، جو گلگت سے گوادر اور میدانی علاقوں سے چولستان و تھر کے صحراؤں تک ملک کے ثقافتی رنگ کو نمایاں کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے قومی و عالمی تعاون ناگزیر، وزیراعظم اور صدر مملکت کا عالمی دن پر پیغام
انہوں نے مقامی اقوام کے حقوق، ثقافت، روایات اور فلاح و بہبود کے احترام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے روایتی علم کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے، ان کی آواز سنے جانے اور ان کی برادریوں کو باعزت اور محفوظ زندگی کے لیے ضروری مواقع اور سہولیات کی فراہمی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔














