مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں بھارتی فورسز اور انویسٹی گیٹو اداروں نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے سوپور اور ملحقہ علاقوں میں 26 مقامات پر تلاشی کی کارروائی شروع کردی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ کارروائی مقبوضہ علاقے کی جماعت اسلامی کے خلاف سخت گیر قانون غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت درج مقدمے کی تحقیقات کے سلسلے میں کی جارہی ہے۔
بھارتی فورسز اور تحقیقاتی اداروں کی متعدد ٹیموں نے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے جماعت اسلامی سے مبینہ طور پر منسلک افراد اور مقامات کی رہائشی و دیگر عمارتوں کی تلاشی لی۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر میں دکانوں سے جماعت اسلامی کی سینکڑوں کتب ضبط کر لی گئیں
تلاشی کی کارروائی والے مقامات کے اطراف پابندیاں مزید سخت کردی گئی ہیں، جبکہ فورسز کی اضافی نفری بھی تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
یہ تازہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکام کی جانب سے UAPA اور دیگر سخت قوانین کے استعمال کا سلسلہ جاری ہے۔ خاص طور پر سیاسی و مذہبی تنظیموں، کارکنوں اور جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کے خلاف ان قوانین کے تحت کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔
حکام نے اتوار کی کارروائی میں نشانہ بنائے جانے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی کسی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ بھارتی حکام کی جانب سے تلاشی کے دوران مبینہ طور پر برآمد کیے گئے کسی مواد یا شواہد کی تفصیلات بھی جاری نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر: بی جے پی کے دباؤ پر لائبریری سے 2 کتابیں اٹھا لی گئیں، 8 افسران معطل
تلاشی کی کارروائیوں کے باعث مقامی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مقبوضہ علاقے میں سخت قوانین کے تحت بار بار چھاپوں، تلاشیوں اور تحقیقات کو شہریوں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے طویل عرصے سے تنقید کا سامنا ہے۔
حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں نے بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں سخت قوانین کے وسیع پیمانے پر استعمال اور ان کے شہری آزادیوں اور سیاسی سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات پر متعدد مرتبہ تشویش کا اظہار کیا ہے۔














