مقبوضہ کشمیر: بی جے پی کے دباؤ پر لائبریری سے 2 کتابیں اٹھا لی گئیں، 8 افسران معطل

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں تعلیمی شعبے میں سیاسی مداخلت کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس سے وابستہ گروہوں کے دباؤ کے بعد اسکولوں کی لائبریریوں سے 2 کتابیں اٹھا لی گئیں، 8 تعلیمی افسران کو معطل کر دیا گیا اور متعلقہ مصنفین و ناشرین کو بھی بلیک لسٹ کر دیا گیا۔

بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (ایس ای ڈی) کے 8 افسران کو ایک لائبریری کتاب کی منظوری اور خریداری کے معاملے پر معطل کر دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدام تعلیمی شعبے میں سیاسی مداخلت کی ایک اور مثال ہے۔

یہ بھی پڑھیے بھارت نے کشمیر پر حقائق چھپانے کے لیے 25 کتابوں پر پابندی لگادی

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب محکمۂ اسکول تعلیم نے بی جے پی اور اس سے وابستہ تنظیموں کی مہم کے بعد سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں سے 2 کتابیں واپس لے لیں۔ ان گروہوں نے ان کتابوں کو ’متنازع‘ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

انتظامیہ نے معطل کیے گئے افسران پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے کتابوں کی سفارش کے دوران ’سنگین غفلت، فرائض سے کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال میں ناکامی‘ کا مظاہرہ کیا، جبکہ حکام کے مطابق ان کتابوں میں ’انتہائی نامناسب مواد‘ شامل تھا۔

محکمۂ اسکول تعلیم کے مطابق سمگر شکشا کو 18 ہزار 328 سرکاری اسکولوں اور 394 پی ایم شری اسکولوں کے لیے عمر کے لحاظ سے موزوں کتابوں کی خریداری کے لیے لائبریری گرانٹ فراہم کی گئی تھی۔ اس مقصد کے لیے ایکسپریشن آف انٹرسٹ (EOI) جاری کیا گیا، جس کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کے ماہرینِ تعلیم پر مشتمل 4 ذیلی کمیٹیوں نے مختلف ناشرین کی جانب سے جمع کرائی گئی کتابوں کا جائزہ لیا۔

یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر میں دکانوں سے جماعت اسلامی کی سینکڑوں کتب ضبط کر لی گئیں

محکمے کے مطابق 364 ناشرین کی جانب سے پیش کی گئی کتابوں میں سے 463 کتابیں مختلف تعلیمی درجات کے لیے منتخب کی گئیں، تاہم بعد ازاں بی جے پی رہنماؤں اور وابستہ گروہوں کے اعتراضات کے بعد ان میں شامل دو کتابیں واپس لے لی گئیں۔

سرکاری حکم نامے کے مطابق کی 123 کاپیاں جموں، رام بن اور ادھم پور کے اسکولوں میں تقسیم کی جا چکی تھیں، جبکہ ’گریٹ پرسنیلیٹیز اینڈ لیجنڈز آف جموں و کشمیر‘ ’ پرسنیلیٹیز اینڈ لیجنڈز آف جموں و کشمیر‘ کی 128 کاپیاں جموں اور بارہمولہ کے اسکولوں تک پہنچائی گئی تھیں، جنہیں بعد میں واپس لینے کا حکم دیا گیا۔

لیفٹیننٹ گورنر نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور ناشرین کو بلیک لسٹ کرنے کے بھی احکامات جاری کیے ہیں۔ ان میں ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف ’پرسنیلیٹیز اینڈ لیجنڈز آف جموں و کشمیر‘، جو اوبرائے بک سروس، جموں نے شائع کی، اور ڈاکٹر سشانت گیری کی تصنیف ’گریٹ پرسنیلیٹیز اینڈ لیجنڈز آف جموں و کشمیر‘ ، جو انوراگ پرکاشن، دہلی سے شائع ہوئی، شامل ہیں۔ حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان مصنفین یا ناشرین کی شائع کردہ تمام مطبوعات مقبوضہ علاقے سے واپس لی جائیں۔

کارروائی کے تحت 8 معطل افسران، جن میں ایک پرنسپل اور 4 لیکچررز شامل ہیں، کے علاوہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکٹ کمپیوٹر اسسٹنٹ کی خدمات بھی فوری طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔

ہندوتوا گروہوں کے اعتراضات کے مطابق ان کتابوں میں متعدد نمایاں حریت رہنماؤں، جن میں سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ، میرواعظ عمر فاروق، مولوی محمد فاروق اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ سے متعلق ابواب شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیے معروف کشمیری مصنفین کی کتابیں مقبوضہ کشمیر کی جامعات کے نصاب سے خارج

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حکام متبادل تاریخی اور سیاسی بیانیوں کے لیے پہلے سے زیادہ عدم برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق تعلیمی اداروں سے اس نوعیت کے مواد کو ہٹانا دراصل ایسے نظریات کو دبانے کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے جو بی جے پی حکومت کے نظریاتی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے۔

تعلیمی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تعلیمی افسران کی معطلی، مصنفین اور ناشرین کو بلیک لسٹ کرنے جیسے سخت اقدامات مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی تنوع، آزاد تحقیق اور علمی خودمختاری کے لیے محدود ہوتی ہوئی گنجائش کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دائیں بازو کے گروہوں کے دباؤ کے سامنے جھکنے سے نہ صرف تعلیمی آزادی متاثر ہو رہی ہے بلکہ یہ ایک ایسی تعلیمی پالیسی کو بھی تقویت دے رہا ہے جو سیاسی اثر و رسوخ اور نظریاتی ترجیحات کے تابع ہوتی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’انویسٹ پاک‘ پورٹل کا افتتاح: پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، وزیر خزانہ

فیفا کے فیصلے پر بیلجیم برہم، امریکی فٹبالر بالوگن کی معطلی ختم کرنے پر شدید احتجاج

متحدہ عرب امارات میں مہنگی قیمت کے باوجود پاکستانی آم کی مانگ میں مسلسل اضافہ

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی غیرمعمولی سرگرمیاں، ایک اور فالس فلیگ آپریشن کے خدشات

10 کھلاڑیوں پر مشتمل انگلینڈ نے میزبان میکسیکو کو 2-3 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنالی

ویڈیو

لاہور کا مٹکا سوڈا، یہ کیسا مشروب ہے؟

اسٹاک مارکیٹ میں نوجوان سرمایہ کاروں کی دلچسپی، نئے اکاؤنٹس کھلنے کی شرح میں 50 فیصد اضافہ

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟