پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ رواں سال اکتوبر میں لاہور میں منعقد ہونے والی 42ویں عالمی نمائش میں مختلف ممالک سے 80 سے زائد غیر ملکی خریداروں کی شرکت کا امکان ہے، عالمی ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کر لی گئی ہے، وزارت تجارت اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان کی رہنمائی میں عالمی نمائش کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور تیاریاں جاری ہیں۔
پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کا اہم اجلاس چیئرمین میاں عتیق الرحمان اور چیئرمین ایگزیبیشن ریاض احمد کی صدارت میں منعقد ہوا۔
مزید پڑھیں: پاکستانی قالین ڈیزائنر کو ترکیہ میں عالمی ایوارڈ سے نواز دیا گیا
اجلاس میں پیٹرن انچیف عبد اللطیف ملک، چیئرپرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمن، سینئر ممبر عثمان اشرف، سعید خان اور دیگر ممبران نے شرکت کی۔
اجلاس میں عالمی نمائش کی تیاریوں، غیر ملکی خریداروں سے موثر رابطوں، پاکستان آمد پر ان کی سیکیورٹی، تشہیر اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے 80 سے زائد معروف درآمد کنندگان کی پاکستان آمد کا امکان ہے جس سے پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی عالمی منڈیوں تک رسائی مزید مستحکم ہوگی۔
’غیر ملکی خریداروں اور پاکستانی برآمد کنندگان کے درمیان بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں ہوں گی‘
اجلاس میں نمائش کی کامیابی کے لیے جامع حکمت عملی کے نکات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور مختلف افراد کو ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔
اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ غیر ملکی خریداروں اور پاکستانی مینو فیکچررز و برآمد کنندگان کے درمیان سائیڈ لائن پر خصوصی بزنس ٹو بزنس ملاقاتوں کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ نئے تجارتی معاہدوں، مشترکہ منصوبوں اور برآمدی مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔
اس کے علاوہ غیر ملکی خریداروں سے جدید رجحانات، عالمی مارکیٹ کی ضروریات اور مستقبل کی مصنوعات کے حوالے سے ان کے خیالات اور تجاویز بھی حاصل کی جائیں گی تاکہ صنعت کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
’حکومت کے تعاون سے قالینوں کی صنعت کو عالمی سطح پر مضبوط شناخت مل رہی ہے‘
چیئرمین میاں عتیق الرحمان اور چیئرمین ایگزیبیشن ریاض احمد نے وزارت تجارت اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی نمائش کے انعقاد اور برآمدات کے فروغ کے لیے بھرپور تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کی معاونت سے پاکستان کی قالینوں کی صنعت کو عالمی سطح پر مزید مضبوط شناخت مل رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ہزارہ برادری کی خواتین کے بنائے قالینوں کی عالمی مارکیٹ میں دھوم
انہوں نے کہاکہ قوی امید ہے کہ یہ نمائش ماضی کی نسبت زیادہ کامیاب ثابت ہوگی اور ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرے گی۔
میاں عتیق الرحمان اور ریاض احمد نے کہا کہ یہ بین الاقوامی نمائش پاکستان کی قالینوں کی صنعت کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگی جس کے ذریعے نہ صرف ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی روایتی ہنرمندی، ثقافت اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مزید موثر انداز سے متعارف کرانے کا بہترین موقع بھی میسر آئےگا۔














