ارجنٹائن کے عظیم فٹبالر لیونل میسی نے والد خورخے میسی کو الوداع کہہ دیا ہے، جو بچپن سے ان کے کیریئر میں رہنمائی کرنے کے ساتھ طویل عرصے تک ان کے نمائندے بھی رہے۔
68 سالہ خورخے میسی کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور جمعہ کی شب ارجنٹائن کے شہر روساریو کے ایک طبی مرکز میں انتقال کرگئے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کے والد جارج میسی 68 برس کی عمر میں انتقال کرگئے
میسی ہفتے کی رات اپنی اہلیہ انتونیلا روکوزو اور بچوں کے ہمراہ نجی طیارے سے میامی سے ارجنٹائن پہنچے اور قریبی اہلخانہ کے ساتھ موجود رہے۔
خورخے میسی کی آخری رسومات روساریو کے قریب واقع شہر پیریز کے ایک قبرستان میں تعزیتی اجتماع کے دوران ادا کی گئیں، جس میں ارجنٹائن کی قومی ٹیم کے چند کھلاڑیوں کی بھی شرکت متوقع تھی۔

قبرستان کے دروازے پر میسی کے مداحوں نے تعزیتی پیغامات اور پھولوں کی چادر رکھ کر اپنے پسندیدہ کھلاڑی سے اظہارِ ہمدردی کیا۔
میسی کے کیریئر میں والد کا اہم کردار
خورخے میسی نے اپنے بیٹے کے فٹبال کیریئر میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وہ میسی کے پہلے کوچ بھی تھے اور محض 4 سال کی عمر میں انہیں فٹبال سے متعارف کرایا۔
2000 میں جب 13 سالہ میسی کو ہارمون کی کمی کے علاج اور فٹبال کی تربیت کے لیے بارسلونا منتقل ہونے کا موقع ملا تو خورخے میسی نے ارجنٹائن میں اپنی ملازمت اور خاندان کے دیگر افراد کو چھوڑ کر بیٹے کے ساتھ اسپین منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔
بعد ازاں انہوں نے میسی کے نمائندے کی حیثیت سے بارسلونا، پیرس سینٹ جرمین اور انٹر میامی سمیت مختلف کلبوں کے ساتھ معاہدوں میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ کپ فائنل کی شکست کے بعد لیونل میسی کی انٹر میامی میں واپسی، دوبارہ ٹریننگ شروع
خورخے میسی کی وفات پر فٹبال کی دنیا سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ میسی کے سابق کلبوں اور ہسپانوی فٹبال حکام سمیت مختلف اداروں نے بھی اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں ہونے والے میچز سے قبل ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے اور ایک ہفتے تک تمام عمر کی سطحوں کے مقابلوں میں کھلاڑیوں کو بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھنے کی ہدایت کی ہے۔














