سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں بچوں کے ہنگامی علاج کے لیے بستروں کی شدید قلت نے صورتحال کو سنگین بنا دیا، روزانہ سیکڑوں بچے بروقت علاج سے محروم رہنے یا مہنگے نجی علاج کی طرف جانے پر مجبور ہیں۔
سندھ بھر میں ایک سال سے کم عمر تقریباً 1.9 ملین جبکہ 5 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 9.5 ملین سے زیادہ ہے، تاہم ان کے لیے سرکاری اسپتالوں میں بچوں کے ہنگامی شعبوں کے صرف 450 سے زائد بستر دستیاب ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ولیکا ایچ آئی وی اسکینڈل : 120 کیسز، 37 اہلکاروں کے خلاف کارروائی، سعید غنی کا عہدہ چھوڑنے کا اشارہ، عوام کیا کہتے ہیں؟
اسپتال انتظامیہ کے مطابق بستروں کی گنجائش کئی برس سے تقریباً وہی ہے، جبکہ بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ گنجائش کم ہونے کے باعث اسپتال انتہائی تشویشناک حالت میں آنے والے بچوں کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ دیگر مریضوں کو بعض اوقات 24 گھنٹے کے اندر فارغ کردیا جاتا ہے۔
کراچی کے سول اسپتال میں بچوں کے ہنگامی شعبے کے لیے 30 بستر موجود ہیں، جہاں روزانہ 100 سے زائد بچے لائے جاتے ہیں، جبکہ قومی ادارہ صحت اطفال میں 68 بستر ہیں لیکن وہاں روزانہ 400 سے زائد بچے پہنچتے ہیں۔
لیاری جنرل اسپتال میں 30، عباسی شہید اسپتال میں 35، سندھ گورنمنٹ کورنگی اسپتال میں 40 جبکہ سندھ گورنمنٹ نارتھ کراچی اسپتال میں صرف 10 بستر موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے 3 بڑے اسپتالوں کا کنٹرول سندھ حکومت کے حوالے
کراچی کے علاوہ حیدرآباد میں 30، لاڑکانہ میں 60، سکھر میں 35، خیرپور میں 35 اور نواب شاہ میں 40 بستر دستیاب ہیں۔
والدین نے بچوں کے ہنگامی علاج کے لیے جگہ نہ ملنے کی شکایات کی ہیں۔ صدر کے رہائشی سید یوسف کے مطابق سانس لینے میں دشواری کا شکار ان کی 7 ماہ کی بیٹی کو قومی ادارہ صحت اطفال میں بستر دستیاب نہ ہونے کے باعث داخل نہیں کیا گیا۔
کچھ والدین نے دعویٰ کیا کہ انہیں طبی معائنے سے قبل ہی واپس بھیج دیا گیا، جبکہ اسپتالوں میں رش کے باعث بعض اوقات ایک ہی بستر پر متعدد بچوں کے علاج کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کی کمی کے باعث نجی شعبے پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جہاں بچوں کے ماہر ڈاکٹر کی فیس 2 ہزار سے 5 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایچ آئی وی اور یپاٹائٹس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ملک میں غیرمعیاری سرنجوں کی تیاری و استعمال پر پابندی
نجی اسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخلے کے لیے ایک سے 2 لاکھ روپے تک پیشگی رقم طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے روزانہ اخراجات ادویات اور دیگر ضروری سامان کے علاوہ 80 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔
پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن سندھ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر وسیم جمالوی نے کہا کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کی شرح میں کمی اور شیر خوار بچوں کو ماں کے دودھ کے بجائے فارمولا دودھ دینے کے بڑھتے رجحان کے باعث بچوں میں بیماریوں اور انفیکشن میں اضافہ ہورہا ہے۔
انہوں نے سندھ کے دیہی علاقوں میں بچوں کے انتہائی نگہداشت کے شعبوں، ماہر ڈاکٹرز، تربیت یافتہ نرسوں اور معاون عملے کی کمی کی بھی نشاندہی کی۔
ان کے مطابق سندھ میں نومولود بچوں کی شرح اموات بھی تشویشناک ہے اور ہر ایک ہزار زندہ پیدائشوں میں تقریباً 29 نومولود جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔














