امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ محدود سطح پر مذاکرات کررہا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے بدستور جاری ہیں، جبکہ پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات بحال کرانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں۔
ٹرمپ نے اتوار کو کہاکہ واشنگٹن ایران کے معاملے پر محتاط اور محدود حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے اور نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کے بجائے ایران پر معاشی دباؤ بڑھنے کا انتظار کررہا ہے۔
مزید پڑھیں: ’ آبنائے ہرمز کھولنے کا معاہدہ قریب، امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اٹھانے پر تیار‘
امریکی صدر نے میڈیا سے مختصر ٹیلی فونک گفتگو میں کہاکہ امریکا ایران کے ساتھ محدود سطح پر مذاکرات کررہا ہے اور فی الحال صورتحال کا مشاہدہ کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران شدید مہنگائی اور مالی مشکلات کا شکار ہے اور اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی معاشی صورتحال بہت خراب ہے اور اس کے پاس اپنی فوج کو ادائیگیاں کرنے کے لیے بھی مطلوبہ رقم موجود نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کے معاشی بحران کو مزید شدید کردیا ہے۔
امریکی صدر نے ساتھ ہی کہاکہ تیل کی قیمتوں میں کمی نے جنگ کے امریکی صارفین پر معاشی اثرات کو محدود رکھا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل سے کچھ زیادہ ہونے کے باعث امریکی صارفین کو جنگ کے نتیجے میں نسبتاً کم معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔
انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دیتے ہوئے کہاکہ معاملات بالآخر حل ہوجائیں گے اور یہ ہمیشہ حل ہوجاتے ہیں۔
پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز
ادھر پاکستان اور قطر امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کررہے ہیں اور دونوں ممالک نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا ایران مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: کیا سفارت کاری جنگ پر غالب آ سکے گی؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق ثالث ممالک کی کوشش ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان جاری تنازع کو مستقل طور پر ختم کرنے کی راہ ہموار کی جاسکے۔














