پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنما حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ پنجاب میں خواتین کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں، جنہوں نے حکومتی ترجیحات اور گورننس پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مزید پڑھیں:50 عالمی ماہرین کا طالبان کے اقدامات کو ’صنفی امتیاز‘ کا بین الاقوامی جرم قرار دینے کا مطالبہ
پریس کانفرنس میں حسن مرتضیٰ نے دعویٰ کیا کہ جنوری سے جون 2026 تک خواتین کے خلاف سنگین نوعیت کے 3 ہزار 172 مقدمات رپورٹ ہوئے، جن میں پنجاب کا حصہ 74 فیصد ہے اور صوبے میں سنگین جرائم کے قریباً 2 ہزار 347 مقدمات درج ہوئے۔ ان میں ریپ، قتل اور دیگر جرائم شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس نے رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں خواتین کے خلاف جرائم کے مجموعی طور پر 20 ہزار 114 مقدمات درج کیے۔ ایس ایس ڈی او کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2025 میں پنجاب میں خواتین کے خلاف تشدد کے 15 ہزار سے زائد واقعات سامنے آئے، یعنی روزانہ اوسطاً 85 خواتین کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
حسن مرتضیٰ نے کہا کہ اعداد و شمار سے محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں 2 الگ پاکستان ہیں، ایک میں حکمرانوں کی ترجیحات اور دوسرے میں عوام کے مسائل ہیں۔ عام آدمی اور بااثر افراد کے لیے قانون کے مختلف معیار نہیں ہونے چاہئیں۔
انہوں نے لاہور میں ایک معذور بچی کے مبینہ جنسی تشدد کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ متاثرہ خاندان کو اب تک انصاف کیوں نہیں ملا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ بچی کے اہلخانہ پر مبینہ دباؤ اور صلح کے لیے ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
مزید پڑھیں:افغانستان کا بحران انسانی اسمگلنگ کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے، اقوام متحدہ
حسن مرتضیٰ نے کہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں ایسے واقعات حکومت کی گورننس پر بڑا سوال ہیں اور غریب کی بیٹی سمیت ہر متاثرہ شہری کو بلاامتیاز انصاف ملنا چاہیے۔














